انوارالعلوم (جلد 17) — Page 612
انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۱۲ الموعود ہماری زمینوں کی آمد کا بجٹ ہوتا ہے۔ سترہ لاکھ کے قریب یہ بن گیا۔ پھر انہوں نے اپنے بجٹ میں لاہور اور بدوملہی کے سکولوں کی آمد بھی شامل کی ہے۔ لیکن ہمارے مقامی سکولوں کے بجٹ اس میں شامل نہیں ہوتے حالانکہ افریقہ، امریکہ اور دوسری جگہوں کے اخراجات ملاؤ تو دولاکھ یہ بڑھ جائیں گے ۔ غرض اس طرح اگر تمام اخراجات اور ہر قسم کے چندے شامل کئے جائیں تو ہمارے بجٹ کا انداز ۲۴۰ ، ۲۵ لاکھ تک جا پہنچتا ہے ۔ مگر مولوی صاحب نے حسب عادت دونوں طرف سے دخل اندازی کی ہے۔ ایک طرف کی ڈنڈی اُنہوں نے اونچی کر دی اور دوسری طرف کی نیچی کر دی ۔ ہمارے ۲۴، ۲۵ لاکھ کے بجٹ کو اُنہوں نے چھ لاکھ کا بجٹ قرار دے دیا اور اپنے ایک لاکھ کے بجٹ کو سوا چار لاکھ کا بجٹ کہہ دیا۔ کوسو دعوى مصلح موعود کے متعلق حلفیہ اعلان اور مخالفین کو مباہلہ کی دعوت خلاصہ یہ کہ مولوی صاحب کے تمام اعتراضات بے حقیقت ہیں اور خدا تعالیٰ کے اس تازہ انکشاف کے بعد تو وہ اور بھی بے حقیقت ہو جاتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور مجھے ہی اللہ تعالیٰ نے اُن پیشگوئیوں کا مورد بنایا ہے جو ایک آنے والے موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمائیں۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ میں نے افتراء سے کام لیا ہے یا اس بارہ میں جھوٹ اور کذب بیانی کا ارتکاب کیا ہے وہ آئے اور اس معاملہ میں میرے ساتھ مباہلہ کرلے اور یا پھر اللہ تعالیٰ کی مولد بعذاب قسم کھا کر اعلان کر دے کہ اُسے خدا نے کہا ہے کہ میں جھوٹ سے کام لے رہا ہوں پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اپنے آسمانی نشانات سے فیصلہ فرمادے گا کہ کون کا ذب ہے اور کون صادق ۔ اور اگر وہ کہتے ہیں کہ خواب تو سچا ہے جیسا کہ مصری صاحب نے کہا تو پھر اس کی حقیقت پر وہ مضمون لکھیں ۔ میں اُن کے اِس مضمون کا جواب کا جواب دوں گا اور میں یقین یقین رکھتا ہوں کہ اگر وہ اس