انوارالعلوم (جلد 17) — Page 601
انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۰۱ الموعود پیدا ہو جائے گایا جو دوسرے میں پیدا ہو گا وہ درحقیقت وہی موعود لڑکا ہوگا اور وہ الہام پورا نہ ہوا ۔ اگر ایسا الہام میرا تمہارے پاس موجود ہے تو تم پر لعنت ہے اگر وہ الہام 66 شائع نہ کرو ۔ ۴۵ صلى الله اس حوالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو یہ فرمارہے ہیں کہ جو لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نے الہام کے مطابق بشیر اول کو اپنا موعود لڑکا قرار دے دیا تھا وہ جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ بولنا لعنتیوں کا کام ہوتا ہے۔ اگر اُن کے پاس میرا کوئی ایسا الہام ہے تو اُن پر لعنت ہے اگر وہ اس الہام کو شائع نہ کریں۔ یہ نہیں فرماتے کہ الہام الہی کے بغیر تعیین کرنا لعنت ہوتی ہے اس طرح تو مولوی محمد علی صاحب خود بھی زیر الزام آ جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے بائبل کی کئی پیشگوئیوں کو رسول کریم ﷺ پر چسپاں کیا ہے اور ریویو آف ریلیجنز اُردو کے گزشتہ مضامین اس امر پر شاہد ہیں ۔ وہ بار باران مضامین میں لکھتے رہے ہیں کہ بائبل کی فلاں پیشگوئی رسول کریم ﷺ پر چسپاں ہوتی ہے کیا انہوں نے یہ تعیین الہام الہی کے مطابق کی تھی یا بغیر الہام الہی کے۔ اگر الہام الہی کے بغیر تعیین کرنا لعنتیوں کا کام ہوتا ہے تو پھر یہ لعنت کا کام مولوی محمد علی صاحب نے کیوں کیا ؟ لیکن سب سے زیادہ خطر ناک بات یہ ہے کہ اس فقرہ کے لکھنے کے چند صفحات بعد اِسی چند صفحات بعد اسی کتاب میں ، یہ نہیں کہ کسی دوسری کتاب میں یا اسی کتاب کے کسی دوسرے ایڈیشن میں بلکہ اسی کتاب اور اسی ایڈیشن میں یہ لکھنے کے بعد کہ :۔ الہام الہی کے بغیر صلح موعود کی تعیین کرنے والے پر حضرت مسیح موعود نے لعنت کی ہے“ محمد علی صاحب لکھتے ہیں ۔ صلى الله ” خدا را غور کرو کہ مصلح موعود کی تعیین حضرت مسیح موعود نے کس کے حق میں کی ہے۔ یاد رکھو کہ مصلح موعود صرف ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء کی پیشگوئی کے دوسرے حصہ کا موعود ہے اور اُس کو اپنی ساری تحریروں میں حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ بھی سوائے مبارک احمد کے اور کسی لڑکے پر نہیں لگایا ۔ ۴۶ اب ایک طرف تو کہتے ہیں کہ الہام الہی کے بغیر مصلح موعود کی تعیین کرنے والے پر حضرت