انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 597

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۹۷ الموعود آیا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ یہ لڑکا پٹھان تھا اور ہم پٹھانوں کی عادات کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ جب یہ باتیں کر رہا تھا تو باتیں کرتے کرتے اس نے اپنی ٹانگوں کو اس طرح ہلایا کہ میں فوراً سمجھ گیا کہ اُس نے چھرا چھپایا ہوا ہے۔ چنانچہ میں نے ہاتھ ڈالا تو پھر انکل آیا۔ پولیس نے اُس پر مقدمہ بھی چلایا تھا اور غالباً اُس نے اقرار کیا تھا کہ میں قتل کی نیت سے ہی قادیان آیا تھا۔ اس موقع پر حضور نے فرمایا کہ میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ وہ اس جیل خانہ میں قید تھا جہاں میں افسر لگا ہوا تھا اور وہ کہتا تھا کہ میں پہلے دھرم سالہ تک ان کو قتل کرنے لئے گیا تھا مگر مجھے کامیابی نہ ہوئی ۔ آخرمیں قادیان گیا اور پکڑا گیا ) چوتھا واقعہ کی توانا کا گودنا چاہتا تھا کہ لوگوں نے اُسے پکڑ لیا۔ پولیس والے چونکہ ہمارے چوتھا واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ام طاہر کے مکان کی دیوار پھاند کر ایک شخص اندر خلاف تھے اس لئے اُنہوں نے یہ کہہ کر اُ سے چھوڑ دیا کہ یہ پاگل ہے ۔ پانچواں واقعہ پانچواں واقعہ بالکل تازہ ہے جو کل ہی ہوا ہے۔ کل ہمارے گھر میں دودھ رکھا ہوا تھا کہ میری بیوی کو شبہ پیدا ہوا کہ کسی نے دودھ میں کچھ ڈال دیا ہے چنانچہ اس شبہ کی وجہ سے اُنہوں نے کہہ دیا کہ اس دودھ کو استعمال نہ کیا جائے ۔ ایک دوسری عورت جسے اس کا علم نہیں تھا یا اُس نے خیال کیا کہ یہ محض وہم ہے اُس نے وہ دودھ پی لیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُسے اب تک متواتر قتیں آ رہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شبہ کیا گیا تھا وہ درست تھا ۔ تھا ۔ لیکن باوجود اس کے کہ لوگوں نے مجھے ہلاک کرنے کی کئی کوششیں کیں اور ہر رنگ میں اُنہوں نے زور لگایا ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ خدا کا سایہ میرے سر پر ہوگا اس لئے وہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا اور اُس وقت تک کرتا رہے گا جب تک وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے اپنی تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔ قبولیت دعا کا نشان خدا کا سایہ سر پر ہونے کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُس کی کثرت سے دعا ئیں سُنے گا ۔ یہ علامت بھی اتنی بین اور واضح طور پر میرے اندر پائی جاتی ہے کہ اس امر کی ہزاروں نہیں ، لاکھوں مثالیں مل سکتی ہیں کہ