انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 593

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۹۳ الموعود حالانکہ ان سے بہت زیادہ حقوق کا ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ فیصلہ کروا چکے تھے۔ غرض کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کا تمام کام میرے ذریعہ سے ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا بنایا کہ مصلح موعود اسیروں کا رستگار ہوگا۔ صل سر ہری کشن کول کی وزارت سے علیحدگی انہی ایام میں آخری دفعہ جب میں لاہور گیا تو سر ہری کشن کول بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔ اُن کا میرے نام پیغام آیا کہ اپنے آدمی بھیج دیں تا کہ شرائط کا ان کے ساتھ تصفیہ ہو جائے ۔ میں نے کہلا بھیجا کہ تصفیہ ان ان شرائط پر ہو گا اگر مان لو تو صلح ہو سکتی ہے ورنہ نہیں ۔ وہ کہنے لگے یہ شرائط تو بہت سخت ہیں اگر ان کو تسلیم کر لیا گیا تو ہماری قوم بگڑ جائے گی ۔ میں نے کہا یہ تمہاری مرضی ہے چاہو تو صلح کر لو اور چاہو تو نہ کرو۔ درد صاحب اُس کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے آخر رات کے گیارہ بجے اُس نے کہہ دیا کہ ان شرائط پر صلح نہیں ہو سکتی ۔ مجھے در دصاحب نے یہ بات پہنچائی تو میں نے اُن سے کہا آپ سر ہری کشن کول سے جا کر کہہ دیں کہ اگر ان شرائط پر وہ صلح کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر وہ بھی وزیر نہیں رہ سکتے ۔ درد صاحب نے یہ بات اُسے کہی تو وہ کہنے لگا میں تجربہ کار ہوں میں ایسے بکف (BLUFF) سے نہیں ڈرا کرتا۔ میں نے درد صاحب سے کہا آپ اُن سے دریافت کریں اور پوچھیں کہ کرنل بکسر جموں گیا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ جموں گیا ہے اور مہا راجہ صاحب سے ملا ہے تو آپ یہ بتائیں کہ کیا مہا راجہ صاحب نے آپ کو وہ باتیں بتائی ہیں؟ اگر نہیں بتا ئیں حالانکہ مہا راجہ آپ کو اپنا باپ کہا کرتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کو الگ کرنا چاہتا ہے چنانچہ میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اب آپ کا زمانہ گزر چکا ہے اب آپ وزیر اعظم نہیں رہ سکتے ۔ مہاراجہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ کو الگ کر دیا جائے اور کالون صاحب کو وزیر اعظم بنا دیا جائے ۔ یہ سنتے ہی اُس کا رنگ فق ہو گیا اور کہنے لگا بات تو ٹھیک معلوم ہوتی ہے ۔ پھر اُسی وقت اُس نے اپنا موٹر تیار کیا اور درد صاحب سے کہا کہ آپ اُن سے اجازت لے کر آئیں اور میر ۔ اور میرے ساتھ چلیں جو شرائط بھی آپ لکھیں گے میں اُن پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ اُنہوں نے کہا اب دستخط کرنے کا وقت نہیں رہا کل صبح تم پرائم منسٹر ہو گئے ہی نہیں ۔ اُس کو ایسا فکر ہوا کہ وہ اُسی وقت مہا راجہ صاحب