انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 591

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۹۱ الموعود ان خطوط سے معلوم ہو سکتا ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا بھی میری تحریک پر کام کر رہی تھی اور کشمیر گورنمنٹ کے وزیر اعظم بھی میرے مشورہ سے ہی کام کرتے تھے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد جب ہمیں کامیابی حاصل ہوئی تو انہوں نے احرار کو اپنے ساتھ ملا کر اس معاملہ کو خراب کرنا شروع کر دیا۔ میں نے پھر زور سے مقابلہ شروع کر دیا۔ مہاراجہ صاحب کشمیر کا ملاقات کرنے سے انکار آخر سرہری کشن کول نے مجبور ہو کر مجھے لکھا کہ آپ اپنے چیف سیکرٹری کو بھیج دیں مہاراجہ صاحب کہتے ہیں میں خود اُن سے بات کر کے ان معاملات کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو بھیج دیا مگر ساتھ ہی انہیں کہہ دیا کہ یہ پرائم منسٹر کی کوئی چال نہ ہو۔ تیسرے دن اُن کا تار پہنچا کہ میں یہاں تین دن سے بیٹھا ہوا ہوں مگر مہا راجہ صاحب ملاقات میں لیت و لعل کر رہے ہیں ۔ میں نے کہا آپ اُن پر حجت تمام کر کے واپس آ جائیں ۔ چنانچہ اُنہوں نے ایک دفعہ پھر ملاقات کی کوشش کی مگر جب اُنہیں کا میابی نہ ہوئی تو وہ میری ہدایت کے ماتحت واپس آ گئے ۔ چوہدری صاحب کے واپس آنے کے بعد سر ہری کشن کول کا خط آیا کہ مہا راجہ صاحب تو ملنا چاہتے تھے مگر وہ کہتے تھے کہ مرزا صاحب خود آتے تو میں اُن سے ملاقات بھی کرتا۔ اُن کے سیکرٹری سے ملاقات کرنے میں تو میری ہتک ہے۔ اتفاق کی بات ہے اس کے چند دن بعد ہی میں لاہور گیا تو سر ہری کشن کول مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ میں نے اُن سے کہا کہ مہا راجہ صاحب خود آتے تو میں اُن سے ملاقات بھی کرتا آپ تو اُن کے سیکرٹری ہیں اور آپ سے ملنے میں میری ہتک ہے۔ میرا یہ جواب سن کر وہ سخت گھبرایا ۔ میں نے کہا پہلے تو میں تم سے ملتا رہا ہوں کیونکہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ سیکرٹری کے ساتھ ملنے سے انسان کی ہتک ہو جاتی ہے لیکن اب مجھے معلوم ہوا کہ اگر سیکرٹری سے ملاقات کی جائے تو ہتک ہو جاتی ہے؟ اس لئے میں اب تم سے نہیں مل سکتا ۔ گویا خدا نے فوری طور پر اُن سے بدلہ لینے کا موقع عطا فر ما دیا۔ چوہدری افضل حق صاحب کی مخالفت آخر اس دوران میں ایک دن سر سکندرحیات خاں صاحب نے مجھے کہلا