انوارالعلوم (جلد 17) — Page 589
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۸۹ الموعود حضور وائسرائے فرماتے ہیں کہ میں آپ کا شکر یہ ادا کروں کہ آپ نے نہایت صفائی سے اپنے خیالات اور آراء کو ظاہر فرما دیا ہے اور یہ اُن کے لئے ایک مشکل سوال کے صحیح طور پر سمجھنے اور اس کے حل کرنے میں بہت مفید اور قیمتی ثابت ہو گا۔ ہز ایکسی لنسی کو یقین ہے کہ وہ آپ پر اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوسرے ممبروں پر یہ اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ آپ اپنی بہترین کوششوں کے ساتھ ایک پُر امن ماحول پیدا کریں گے جس سے جلد اور تسلی بخش حل کرنے میں بہت بڑی مدد ملے گی ۔ پرسنل اسسٹنٹ وزیر اعظم کشمیر کا خط دوسرا خط وزیر اعظم کشمیر کے پرسنل اسٹنٹ کا ہے جو انہوں نے میرے پرائیوٹ سیکرٹری کے نام لکھا وہ خط یہ ہے۔ سرینگر کشمیر مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۳۱ء مکرم پرائیوٹ سیکرٹری صاحب تسلیم ۔ آپ کا گرامی نامه مورخه ۱۳/ نومبر) را ۱۹۳ ء جناب حضور والا شان پرائم منسٹر ۱۹۲ء والا پرائم منسٹر صاحب بہادر کے ملاحظہ سے گزرا۔ مختصراً جواب عرض کرتا ہوں کہ ابتدا سے یہ کوشش جاوے کی جا رہی ہے کہ مسلمانان کشمیر کو ابتدائی جائز حقوق دینے میں بے حد جلدی کی ے اور خاص طور پر گزشتہ ایک ہفتہ سے تو شب و روز سوائے اس کام کے پرائم منسٹر صاحب کسی دوسرے کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ البتہ دو تین روز کے لئے جموں کے واقعات نے مجبور کیا کہ وہاں پرائم منسٹر صاحب خود تشریف لے جاویں۔ جموں کے واقعات نے جس کے ذمہ دار احرار ہیں ۔ معاملہ مطالبات کو قدرے التواء میں ڈال دیا اور صدر صاحب کے ساتھ گفت و شنید یا خط و کتابت میں بھی دیر محض اسی وجہ سے ہوئی (لوگ کہتے ہیں کہ احرار کی وجہ سے کشمیر میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ یہ کہتے ہیں کہ احرار کی وجہ سے معاملہ مطالبات کے منظور ہونے میں دیر ہو گئی ورنہ بات جلدی طے ہو جاتی ) علاوہ بریں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے