انوارالعلوم (جلد 17) — Page 563
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۶۳ الموعود دیوار گرائے جانے کی خبر (9) پھر میں ابھی بچہ ہی تھا کہ ہمارے شرکاء نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شدید مخالف تھے ، مسجد کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر کے اُس کا دروازہ بند کر دیا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کے لوگوں کو مسجد میں لاتے اور کئی لوگ اُوپر سے چکر کاٹ کر اور سخت تکلیف اُٹھا کر آتے ۔ اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب لوگوں کو دعا کرنے کے لئے کہا اور مجھے بھی دعا کا ارشاد فرمایا ۔ میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی میں میں نے دعا کی تو مجھے ایک رویا ہوا جس میں میں نے دیکھا کہ میں بڑی مسجد سے آ رہا ہوں کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفہ مسیح الاوّل بھی تشریف لا رہے تھے۔ میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جا رہی ہے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے پہلے ایک مقدمہ ہوا جس میں ناکامی ہوئی پھر دوسرا مقدمہ ہوا اور اُس میں ناکامی ہوئی آخر تیسرے مقدمہ میں کا میں کامیابی ہوئی اور عدالت نے دیوار گرائے جانے کا حکم دے دیا۔ اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اول اُس روز س روز درس دے رہے تھے۔ جب درس ختم ہوا اور میں گھر کو چلا تو دیکھا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفہ اول آ رہے تھے۔ میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جا رہی ہے ۔ گویا جس طرح میں نے خواب میں نظارہ دیکھا تھا ویسا ہی وقوع میں آ گیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے یہ خواب حضرت خلیفہ اول کو سنایا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ نے اُس وقت میری بات سُن کر فرمایا لومیاں تمہاری خواب پوری ہوگئی ۔ یہ دیوار اس مقام پر تھی جہاں آجکل محاسب کا دفتر ہے۔ مسجدا ڈاکٹر مطلوب خان صاحب کے (۱۰) پھر پچھلی جنگ کا واقعہ ہے ۔ ہم اُن دنوں حضرت اماں جان کے گھر تینوں بھائی کھانا متعلق ایک حیرت انگیز رویا کھایا کرتے تھے۔ اُس وقت ہمارا دستور یہ تھا کہ ہم ایک وقت کا کھانا اُن کے ہاں کھایا کرتے تا کہ اُن کا دل بہلا رہے۔ جب ہم تینوں بھائی وہاں اکٹھے تھے تو میاں شریف احمد صاحب نے ( جن سے ماسٹر محمد نذیر خاں صاحب نے یہ بات بیان کی تھی ) ذکر کیا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے متعلق یہ اطلاع آئی ہے کہ وہ جنگ