انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 523

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۲۳ الموعود اور ایک بت پر سوار ہو گیا۔ تب میں نے سُنا کہ بتوں کے پجاری زور زور سے مشرکانہ عقائد کا اظہار منتروں اور گیتوں کے ذریعہ سے گرنے لگے۔ اس پر میں نے دل میں کہا کہ اس وقت خاموش رہنا غیرت کے خلاف ہے اور بڑے زور زور سے میں نے توحید کی دعوت اُن لوگوں کو دینی شروع کی اور شرک کی برائیاں بیان کرنے لگا ۔ تقریر کرتے ہوئے مجھے یوں معلوم ہوا کہ میری زبان اُردو نہیں بلکہ عربی ہے۔ چنانچہ میں عربی میں بول رہا ہوں اور بڑے زور سے تقریر کر رہا ہوں ۔ رویا میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ ان لوگوں کی زبان تو عربی نہیں ، یہ میری باتیں کس طرح سمجھیں گے مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ گو ان کی زبان کوئی اور ہے مگر یہ میری باتیں خوب سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ میں اسی طرح اُن کے سامنے عربی میں تقریر کر رہا ہوں اور تقریر کرتے کرتے بڑے زور سے اُن کو کہتا ہوں کہ تمہارے یہ بہت اس پانی میں غرق کئے جائیں گے اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم کی جائے گی ۔ ابھی میں یہ تقریر کر ہی رہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ اسی کشتی نمایت والا جس پر میں سوار ہوں یا اُس کے ساتھ کے بُت والا بُت پرستی کو چھوڑ کر میری باتوں پر ایمان لے آیا ہے اور موحد ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد اثر بڑھنا شروع ہوا اور ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں شخص میری باتوں پر ایمان لاتا ، مشرکانہ باتوں کو ترک کرتا اور مسلمان ہوتا چلا جاتا ہے ۔اتنے میں ہم جھیل پار کر کے دوسری طرف پہنچ گئے ۔ جب ہم جھیل کے دوسری طرف پہنچ گئے تو میں اُن کو حکم دیتا ہوں کہ ان بتوں کو جیسا کہ پیشگوئی میں بیان کیا گیا تھا پانی میں غرق کر دیا جائے ۔ اس پر جو لوگ موحد ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی موحد تو نہیں ہوئے مگر ڈھیلے پڑ گئے ہیں، ر وہ تو تے دے میرے سامنے جاتے ہیں اور میرے حکم کی تعمیل میں اپنے بچوں کو جھیل میں غرق کر دیتے ہیں اور میں خواب میں حیران ہوں کہ یہ تو کسی تیرنے والے مادے کے بنے ہوئے تھے یہ اِس آسانی سے جھیل کی تہہ میں کس طرح چلے گئے ۔ صرف پجاری پکڑ کر اُن کو پانی میں غوطہ دیتے ہیں اور وہ پانی کی گہرائی میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد میں کھڑا ہو گیا اور پھر انہیں تبلیغ کرنے لگ اور گیا۔ کچھ لوگ تو ایمان لا چکے تھے مگر باقی قوم جو ساحل پر تھی ابھی ایمان نہیں لائی تھی اس لئے میں نے اُن کو تبلیغ کرنی شروع کر دی، یہ تبلیغ میں اُن کو عربی زبان میں ہی کرتا ہوں ۔ جب میں