انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 502

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۰۲ الموعود دیئے اور دشمنانِ اسلام پر ہر طرح اتمام حجت کر دیا۔ ان پیشگوئیوں کے شائع ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود بشیر اول کی پیدائش علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاں ۱۷ اگست ۱۸۸۷ء کو ایک لڑکا پیدا ہوا ( دیکھو اشتہارے اگست ۱۸۸۷ء ) جس کا نام آپ نے بشیر رکھا اور اسے ۱٫۸ پریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں جو ایک اور لڑکے کی پیشگوئی تھی جو قریب مدت میں پیدا ہونے والا تھا اُس کا مصداق قرار دیا ۔ ۸ ا پریل ۱۸۸۶ ء کے اشتہار میں پیشگوئی کے یہ الفاظ تھے کہ :۔ اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہ کرے گا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہو گا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں 9 برس کے عرصہ میں پیدا ہو گا اور پھر اس کے بعد الہام ہوا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں ۔ ۱۶ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ لوگوں کے ان اعتراضات کی وجہ سے کہ ۹ برس میں پیدا ہونے والے لڑکے کے لئے جو مدت مقرر کی گئی ہے وہ بہت لمبی ہے اِس عرصہ میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا ہو ہی جاتا ہے آپ نے دعا کی تو آپ پر یہ ظاہر کیا گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہو نیوالا ہے ۔ ایک“ کا لفظ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں ظاہر فرمایا کہ جو لڑ کا قریب ہی ہونے والا ہے وہ و ہی 9 سالہ میعاد میں پیدا ہونے والا موعود لڑکا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ اور ہو۔ و اس پیشگوئی کی اصل غرض دشمنوں کے اس اعتراض کو دور کرنا تھی کہ لمبی مدت میں لڑکے کا ہونا عجیب بات نہیں پیشگوئی قریب زمانہ کے متعلق ہونی چاہئے ۔ گو اُن کے اعتراض کا اصل مانہ کے جواب تو یہ دیا گیا کہ جس شان کا لڑ کا موعود ہے اس شان کا لڑکا 9 چھوڑ اٹھارہ سال میں بھی اگر موجود ہے اس شان کا ہو جائے تو پیشگوئی کی عظمت میں فرق نہیں آتا لیکن اُن کے اعتراض کو خود ان کے دعووں کے مطابق ہی رڈ کرنے کے لئے یہ دوسرا طریق اختیار کیا گیا کہ بہت اچھا ! ہم ایک لڑکے کی قریب مدت میں بھی خبر دے دیتے ہیں اس کے بعد تم کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نوٹ بھی اپنی طرف سے لکھ دیا کہ یہ