انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 492

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۹۲ الموعود دور کر سکوں اور اسلام کی محافظت اور دشمنوں کے حملوں کے دفاع کا فرض پوری خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے سکوں ۔ اس غور وفکر میں آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ میں چالیس دن تک چلہ کروں اور کسی علیحدہ مقام پر خاص طور پر اللہ تعالی سے دعائیں کروں کہ وہ ایسی تائیدات کے سامان میرے لئے مہیا فرمائے جن سے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور اسلام کی صداقت کا کامل اور روشن تر ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر سکوں ۔ چنانچہ آپ نے دعاؤں اور استخاروں سے کام لینا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ الہی ! بعض مقامات بھی خاص طور پر بابرکت ہوتے ہیں اور ان مقامات کے ساتھ تیرے خاص فضل وابستہ ہوتے ہیں ۔ وہاں اگر دعائیں کی جائیں تو وہ اور دعاؤں کی نسبت زیادہ شان سے اور قریب ترین عرصہ میں شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں ۔ تو اپنے خاص فضل سے اس بارہ میں بھی میری راہنمائی فرما کہ میں یہ دعا ئیں کہاں کروں اور کس جگہ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کیلئے دعا ئیں کرنے کے لئے جاؤں ۔ ہوشیار پور کے حالات ان دعاؤں اور استخارہ کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا کہ آپ ہوشیار پور میں چلہ کریں۔ مولوی عبداللہ صاحب سنوری اُس وقت آپ کے معتقد تھے ۔ اُنہیں جب معلوم ہوا کہ آپ چالیس دنوں تک خاص دعا ئیں کرنا چاہتے ہیں تو اُنہوں نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ جب آپ چلہ کریں تو مجھے بھی اطلاع دیں کہ کس جگہ چلہ کیا جائے گا تا کہ میں بھی خدمت کا ثواب حاصل کر سکوں ۔ وہ اُس وقت پٹیالہ میں پٹواری ہوا کرتے تھے ۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ ہوشیار پور کے مقام پر چلہ کرنا پسند کرتا ہے تو آپ نے مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو لکھا کہ میں چلہ کیلئے ہوشیار پور جا رہا ہوں آپ بھی فوراً پہنچ جائیں تا کہ قادیان سے ہم اکٹھے روانہ ہو سکیں ۔ چنانچہ مولوی عبداللہ صاحب سنوری قادیان پہنچ گئے اور آپ ۲۱ جنوری ۱۸۸۶ء کو ہوشیار پور روانہ ہوئے ۔ ہوئے ۔ آپ کے ساتھ صرف تین آدمی تھے ۔ اول مولوی عبداللہ صاحب سنوری ۔