انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 476

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۷۶ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) ہند و سیاست کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی ہندوؤں کی سیاست کی مجھے بھی مجھ نہیں آئی۔ جب ملک میں ان کی اکثریت ہے اور ایک مسلمان کے مقابلہ میں تین ہندو ہیں تو ان کو مسلمانوں سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔ بہر حال اب وقت ایسا ہے کہ سب اختلافات کو نظر انداز کر کے صلح کی طرف قدم بڑھانا چاہئے ۔ (ماخوذ از رجسٹر فضل عمر فاؤنڈیشن ) حلف الفضول کے اصول آب میں اپنے ایک رؤیا کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو جولائی ۱۹۴۴ء میں میں نے دیکھا اور جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے ۔ ”میں نے دیکھا کہ میں گویا اپنی اولاد کو مخاطب کر کے کچھ کہہ رہا ہوں اور کہتا ہوں کہ جس طرح حلف الفضول رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوتی تھی ایسا ہی ایک معاہدہ میری اولاد کرے ۔ تو اس کے نتیجہ میں اُس پر خدا کے فضل خاص طور پر نازل ہوں گے اور وہ کبھی تباہ نہ ہوگی ۔“‘ ھے صلى الله حلف الفضول ایک معاہدہ تھا جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے آپس میں کیا تھا۔ اس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین ایسے آدمی تھے جن کے نام فضل تھے اور اسی وجہ سے اِسے حلف الفضول کہتے ہیں ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ حلف الفضول والے مل کر یا اکیلے اکیلے مظلوم کا حق دلوایا کریں گے ۔ رسول کریم ﷺ نے اُس زمانہ میں ابھی دعوی نہیں کیا تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اُس نے تحریک کی کہ آپ بھی اس میں شریک ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک نیک کام ہے اور میں اس میں ضرور شامل ہوں گا ۔ چنانچہ آپ اس میں شامل ہوئے اور آپ اس کی پوری طرح پابندی کرتے رہے۔ حتی کہ جب آپ نے دعوی کیا اور اہلِ مکہ آپ کی مخالفت کر رہے تھے تو اُس زمانہ میں کسی گاؤں کا ایک آدمی مکہ میں آیا جس سے ابوجہل نے کوئی مال خریدا تھا اور وہ