انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 454

انوار العلوم جلد ۱۷ لد لد بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) بھیجوایا جا سکے۔ پھر وہاں مینیجروں کی بھی ضرورت ہے اس کے لئے دوگریجوایٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں ۔ ان میں سے ایک کو ہم ایم ایس سی کی دوسرے کو بی ایسی سی کی تعلیم دلا رہے ہیں ۔ اور بھی ایسے نوجوان جو بی اے یا بی ایس سی ہوں اور جنہیں زمیندارہ کام کا تجربہ ہوا گر اپنے نام پیش کریں تو بہت اچھا ہے۔ دفتری نظام ایک اور خطرہ جو ہمارے دفتری کاموں کے سلسلہ میں ہے میں اُس کا ذکر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے ہے کہ موجودہ ناظر جب سے مقرر ہوئے ہیں وہی کام کر رہے ہیں ان کا کوئی قائم مقام تیار نہیں ہوا۔ یہی چند ایک لوگ ہیں جو ہیں ہیں سال سے زائد عرصہ سے کام کر رہے ہیں اور آگے ہمارے پاس کوئی ایسے آدمی نہیں ہیں جو ان کی جگہ لے سکیں ۔ میں نے مجلس مشاورت کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ میں تحریک جدید کے واقفین میں سے ایسے آدمی دوں گا جنہیں ایسے رنگ سے ٹریننگ دی جائے کہ وہ آئندہ جا کر نظارتوں کا کام کر سکیں ۔ چنانچہ میں نے واقفین میں سے چھ نوجوان صدرانجمن احمد یہ کو دیئے ہیں کہ انہیں مختلف محکموں میں ٹریننگ دی جائے تا جب کسی ناظر کی کوئی جگہ خالی ہو تو وہ کام کو سنبھال سکیں ۔ یہ نوجوان واقفین میں سے دیئے گئے ہیں ۔ ہم ان کو صرف گزارہ دیں گے جو صدرانجمن احمد یہ تحریک جدید کو ادا کر دیا کرے گی ۔ ان کو ترقیات اور گریڈ وغیرہ کوئی نہیں دیئے جائیں گے کیونکہ وہ واقف ہیں ۔ تبلیغ کے کام کو وسعت دینے کے لئے اس سال کراچی ، بمبئی اور کلکتہ میں با قاعدہ مشن کھول دیئے گئے ہیں۔ میری عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ ان مقامات پر مشن کھولے جائیں جو ہندوستان مگر افسوس کہ اب تک اس طرف توجہ نہ دی گئی ۔ اب یہ مشن کھل گئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی کامیابی ہو رہی ہے خصوصاً کلکتہ میں زیادہ کامیابی ہو رہی ہے وہاں اب تک ایک درجن اچھے کام کرنے والے آدمی سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں اور درجنوں ہیں جو تیار ہو رہے ہیں اور قریب آ رہے ہیں ۔ کراچی میں بھی بیداری کے آثار نظر آتے ہیں کچھ لوگ وہاں بھی احمدی ہوئے ہیں اور امید ہے کہ وہاں جلد مرکز مضبوط ہو کر زیادہ اچھے نتائج پیدا ہو سکیں گے۔ بمبئی میں دیر سے مشن قائم ہوا ہے ابھی موزوں جگہ بھی نہیں مل سکی مگر وہاں نیر صاحب