انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 441

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۴۱ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) اُس کی قدرتوں سے اس سوال کو حل کرنا شروع کیا اور توحید الہی پر غور کرتا گیا حتی کہ میرا دماغ تھک گیا اور آرام کرنا چاہا مگر میں نے فیصلہ کیا کہ یا تو میں اس سوال کو حل کر کے چھوڑوں گا اور یا میں گھر میں داخل نہ ہوں گا ۔ اُس وقت آسمان صاف تھا اور یہ آخری سوال تھا جسے میں حل کرنا چاہتا تھا میں نے خیال کیا کہ جب ہر چیز کہیں نہ کہیں جا کر ختم ہو جاتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ کو غیر محد دو ماننا کیونکر درست ہو سکتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کو غیر محدود ماننا درست ہے تو دوسری چیزوں کے متعلق بھی ایسا کیوں نہ سمجھا جائے ۔ اور میری طبیعت یہاں آ کر رکی کہ خدا تعالیٰ کا غیر محدود ہونا سمجھ میں نہیں آ سکتا اور محدود خدا نہیں ہو سکتا ۔ میری نظر ستاروں پر پڑی اور وہ بہت خوبصورت نظر آتے تھے۔ میں نے خیال کرنا شروع کیا کہ ان کے پیچھے اور کیا ہو گا ؟ میرے نفس نے جواب دیا کہ اور ستارے ہوں گے پھر میں نے خیال کیا کہ ان کے پیچھے اور کیا ہوگا ؟ اور پھر میرے نفس نے جواب دیا کہ اور ستارے ہونگے ۔ اور ان کے پیچھے؟ تب میرے نفس نے جواب دیا کہ یہ تو ایک لا متناہی سلسلہ بن گیا یہ کہاں ختم ہوگا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ محدود دماغ میں نہیں آ سکتا اور اس کی حد بندی نہیں کی جاسکتی ۔ تب میرا دماغ واپس لوٹا اور میں سمجھ گیا کہ خدا تعالیٰ اپنے آپ کو اپنی قدرتوں سے ظاہر کرتا ہے اور مجھے پتہ لگ گیا کہ اسی سوال کو حل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے ۔ ہم ستاروں کے بارہ میں جب یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ یہ سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے اور زمین کے بارہ میں بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ اس کی جگہ پہلے کیا تھا ؟ کہا جاتا ہے پہلے پانی ہی پانی تھا تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کیا تھا اور پھر اس سے پہلے کیا تھا ، یہ ایک لامتناہی سلسلہ بن جاتا ہے کہ جسے سمجھنا ممکن نہیں مگر ہم ان دونوں چیزوں کا انکار بھی نہیں کر سکتے ۔ اگر کوئی ان کا انکار کرے تو لوگ اُسے پاگل کہیں گے اور ان کی موجودگی میں خدا تعالیٰ کے بارہ میں شبہ کرنا بھی ویسا ہی پاگلا نہ خیال ہے اور اس طرح یکدم مجھے خدا تعالیٰ کا ثبوت مل گیا۔ اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید سے آپ کے سچے ہونے کا ثبوت مل گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے حضرت