انوارالعلوم (جلد 17) — Page 436
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۳۶ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) تھے ۔ حکومت یوگوسلاویہ کو حکومت البانیہ نے توجہ دلائی اور تحریک کی کہ مولوی صاحب کو وہاں سے بھی نکال دیا جائے۔ چنانچہ انہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ اس پر وہ اٹلی آگئے اور پھر وہاں سے مصر اور وہاں سے ہندوستان واپس آ گئے ۔ پھر ان کو مغربی افریقہ بھیجا گیا تھا اور وہ وہاں جا رہے تھے کہ ان کا جہاز ڈوب گیا اور اب معلوم ہوا ہے کہ وہ زندہ ہیں حالانکہ اکثر دوست یہی خیال کرتے تھے کہ وہ فوت ہو چکے ہوں گے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مردہ کو جسے اس نے زندہ کیا ہے بہت سے روحانی مردوں کو زندہ کرنے کا موجب بنائے ۔ اس کے بعد میں ایک ایسی بات کا ذکر کرتا ہوں جو میرے اصل مضمون کا تو حصہ نہیں مگر تازہ پیدا ہوئی ہے اِس لئے اِس کے متعلق بھی کچھ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ پرسوں یہاں پر ایک جلسہ کیا گیا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو جماعت سے نکالے ہوئے ہیں یا نکالے گئے ہیں۔ اس جلسہ میں ہمارے خلاف بہت کچھ سب وشتم سے کام لیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے سلسلہ کے بعض کا رکن بہت غصہ میں تھے۔ انہوں نے مجھے اس امر کی رپورٹ کی اور دریافت کیا کہ ہم اس کا ازالہ چاہتے ہیں کیا کارروائی کریں۔ میرا خیال ہے ہماری جماعت کے دوست بعض دفعہ بھول جاتے ہیں کہ خدائی جماعتیں ہوتی ہی گالیاں کھانے کے لئے ہیں ۔ جب تک وہ اس حقیقت کو یاد نہ رکھیں گے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ مشہور مثل ہے کہ ایاز قدرے خودشناس“ مومنوں کی جماعت ہمیشہ گالیاں کھانے کیلئے ہوتی ہے ۔ اگر وہ گالیاں نہ کھائیں تو دوسروں کا حق ہے کہ یہ اعتراض کریں کہ اگر تم صداقت پر ہو تو کیوں تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جا تا جو خدا تعالیٰ کی جماعتوں سے ہوتا آیا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئیں ، مارا گیا ، صحابہ کو گالیاں ملتی تھیں اور تکالیف پہنچائی جاتی تھیں کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بُرا مناتے تھے اور کیا اسلام میں اس سے کوئی فرق آتا تھا ؟ پھر ہم کیوں ان گالیوں پر بُرا منا ئیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم ان ہی رستوں پر چل کر خدا تعالیٰ کو پا سکتے ہیں جن پر چل کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کو پایا ، جن پر چل کر حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسی علیہ السلام نے