انوارالعلوم (جلد 17) — Page 411
انوار العلوم جلد ۱۷ لداا لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات موت کو اپنے سے دور رکھنے کے لئے ایک انسان ہزاروں اور لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے اگر ہماری زندگی صرف اسی دنیا کے ساتھ وابستہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ موت سے بچنا چاہتا ہے۔ ہمیں اس زندگی میں ہزار ہا بلکہ کروڑہا انسان ایسے نظر آتے ہیں جن کے پاس دنیا کے بہترین سامانوں سے مال و دولت، آرام و آسائش اور اس دنیا کی باقی تمام لذتوں سے کچھ بھی موجود نہیں مگر باوجود اس کے وہ اس دنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ اُن کے اندر اس خواہش کا پایا جانا بتاتا ہے کہ کسی اور اہم مقصد کو پورا کرنے کے لئے اُن کو پیدا کیا گیا ہے۔ اگر کسی اور اہم مقصد کے لئے اُن کو پیدا نہیں کیا گیا تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو با وجود تکالیف کے اُن کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور زندہ رہنے کی اور موت سے بھاگنے کی تلقین کرتی ہے۔ پس یہ وہی خواہش اور وہی حس ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ و الانس إلا لِيَعْبُدُونِ ! کہ جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ وہ عبادت الہی میں اپنا وقت گزاریں اور آئندہ زندگی کے لئے روحانی آنکھیں پیدا کریں جو خدا تعالیٰ کو دیکھنے کے قابل ہوں ۔ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے من كان في هذةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعمى کے یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے اور اُس کی روحانی آنکھیں نہیں جو خدا تعالیٰ کو دیکھ سکیں آخرت میں بھی وہ اندھا ہی اُٹھایا جائے گا کیونکہ آخرت میں اُس کی روحانی آنکھیں اِسی دنیا کی رؤیتِ الہی سے پیدا ہوں گی ۔ پس جس نے اس دنیا میں خدا تعالیٰ کو دیکھنے والی روحانی آنکھیں پیدا نہ کی ہوں گی وہ اگلے جہان میں بھی نا بینا اُٹھایا جائے گا اور خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکے گا ۔ قرآن مجید میں آتا ہے کہ اس قسم کے لوگ جب اندھے اُٹھائے جائیں گے تو وہ کہیں گے ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا تو خدا تعالیٰ اُن کو یہ جواب دے گا کہ تم پچھلے جہان میں اندھے تھے اور تم نے میرے دیکھنے والی آنکھیں پیدا نہیں کیں جو اسی جہان میں پیدا ہوتی ہیں اس لئے اب تم مجھے نہیں دیکھ سکتے ۔ اُس وقت ایسے لوگ کہیں گے کہ اگر ہم تجھے دیکھنے کے قابل نہیں تو ہماری اس زندگی کا فائدہ ہی کیا ہے ۔ پس یہ خدا سے تعلق پیدا کرنے اور دائمی زندگی حاصل کرنے کی خواہش انسان کے اندر مخفی ہے جسے یہ ظاہر میں بُھلا بیٹھا ہے مگر یہی خواہش اُس کو اندر ہی اندر زندہ رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ -