انوارالعلوم (جلد 17) — Page 401
انوار العلوم جلد ۱۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لد ١٠ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۴ء نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۴ء وہ وقت آگیا ہے جب ہمارا قدم نہایت بلند مقام کی طرف اُٹھے گا یا نیچے گر جائے گا ) تقریر فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۴۴ ء بر موقع افتتاح جلسه سالانه قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ہم پھر ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اُس کے دین کی خدمت اور اُس کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کے حضور میں اپنی عقیدت کے پھول پیش کرنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ آج وہ حسین : اترین چہرہ جس سے سورج اور چاند روشن ہیں دنیا کی نگاہوں میں تاریک نظر آ رہا ہے ۔ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان سب کی نگاہیں آج اُس چہرہ سے ہٹ کر دوسری چیزوں پر پڑ رہی ہیں۔ وہ محبت اور وہ اخلاص اور وہ تعلق جو کسی زمانہ میں مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا آج اس میں بے انتہاء کمی آ چکی ہے ۔ ایک وقت جس کے معمولی اشارے پر لوگ بڑھ بڑھ کر اپنی جانیں قربان کرنے میں فخر سمجھتے تھے آج اُس کی آواز اور اُس کی پکار کو سننے کے لئے بھی کان تیار نہیں ہیں ۔ آسمان سے اور عرش سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پکارتا ہے اور جنت سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح آوازیں دے رہی ہے مگر مسلمان ہیں کہ اپنے کانوں میں روئی ڈالے ہوئے ہیں نہ ان پر عرش کی پکار کا اثر ہوتا ہے اور نہ جنت کی آوازیں سنتے ہیں ۔ یاسن سکتے ہی نہیں بلکہ لہو ولعب اور دنیا کے کاروبار سے انہیں فرصت ہی نہیں ۔ کفر روز بروز اسلام کو کھائے جا رہا ہے، اسلامی روحانیت کچلی گئی ہے، شیطان پھر آزاد ہو ۔