انوارالعلوم (جلد 17) — Page 394
انوار العلوم جلد ۱۷ لله خالد خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں بات کو ہنسی میں ٹال دینا زیادہ مناسب ہوا کرتا ہے ۔ مگر بعض دفعہ ایک شخص غصیلا ہوتا ہے اور ے کے لئے مذاق کو برداشت نہ کر کے وہ لڑ پڑتا ہے۔ جہاں ایسی صورت پیدا ہو وہاں دوسرے ضروری ہوتا ہے کہ وہ خاموش رہے اور وہاں سے اُٹھ کر چلا جائے۔ ہر بات جو نا پسند ہے اُس پر لڑائی شروع کر دینا معاملہ کو بلا وجہ طول دینا اور تفرقہ و شقاق کی صورت پیدا کر کے مقاطعہ تک نوبت پہنچانا اور بول چال بند کر دینا ہرگز ایک مومن کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اگر ہر شخص کو اس امر کی اجازت دی جائے کہ وہ جس سے چاہے بول چال بند کر دے جس سے چاہے تفرقہ اختیار کر لے تو قوم کی ٹوٹتے ٹوٹتے کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہ جاتی ۔ یہ باتیں ہیں جن کی طرف خدام الاحمدیہ کو میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں اور ہدایت کرتا ہوں کہ انہیں جہاں بھی پتہ لگے کہ دو احمدی نوجوان کسی وجہ سے آپس میں گفتگو نہیں کرتے تو اُن کے اس فعل کو قومی جرم قرار دیا جائے اور انہیں نصیحت کی جائے کہ مقاطعہ کرنا یا بول چال بند کر دینا جائز نہیں ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں جن کی طرف میں اس وقت خصوصیت سے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں اور اصل بات تو یہ ہے کہ درد کی وجہ سے مضمون کا تسلسل بھی قائم نہیں رہا اور اب مزید کچھ کہنا میرے لئے ناممکن ہے اس لئے میں انہی تین شقوں پر آج کی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے کا رکنوں اور تمام خدام اور اطفال کو اپنی اپنی ذمہ داری کے سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے عطا فرمائے اور ہر قدم پر وہ آپ لوگوں کی راہنمائی فرمائے تا کہ وہ باتیں جو آپ لوگوں کو معلوم ہیں اُن پر آپ عمل کر سکیں اور جو باتیں معلوم نہیں وہ خدا تعالیٰ خود آپ لوگوں کو سکھائے تا کہ آپ دین کی باتوں کو اچھی طرح جانیں اور ہمیشہ ان پر عمل کرتے رہیں ۔ ( الفضل ۹ نومبر ۱۹۴۴ء ) 1 گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳ ۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء ۱- یوحنا باب ۴ آیت ۸ - برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۴۲ ء صفحه ۲