انوارالعلوم (جلد 17) — Page 375
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۷۵ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں میں نے بار ہا بیان کیا ہے کہ ہماری جماعت کی تنظیم در حقیقت دو حصے رکھتی ہے جن میں سے ایک حصہ اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ ہماری جماعت دوسری جماعتوں سے مختلف ہے اور دوسرا حصہ اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے بغیر کوئی قوم فعال نہیں بن سکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم کسی مقصد کو لے کر کھڑی نہیں ہوتی نہ اُس میں اپنے کام کے متعلق جوش پیدا ہوتا ہے اور نہ اُس کا ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ قدم بڑھ سکتا ہے ۔ اسی طرح اگر کسی قوم میں صحیح قوت عملیہ نہ پائی جائے اور وہ ان طریقوں کو اختیار نہ کرے جن کے ذریعہ قوم اپنے خیالات اور اپنے عقائد کو کامیاب طور پر دنیا میں پھیلا سکتی ہے تو اُس وقت تک بھی وہ قوم کا میاب نہیں ہو سکتی ۔ پس ایک طرف ہمارے لئے اس امر کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ آیا کوئی اہم مقصد ہمارے سامنے ہے یا نہیں تا کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم نے کیا کہنا ہے اور دوسری طرف ہماری تربیت اس رنگ میں ہونی چاہئے کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے۔ ہر قوم کی ترقی کے لئے بنیادی طور پر یہ امر نہایت ضروری ہے کہ اُس کا ہر فرد ان دو فقروں کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہو کہ ہم نے کیا کہنا ہے، جس کے اندر ہم نے کیا کرنا ہے“ بھی شامل ہے اور دوسرے یہ کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے“۔ جب یہ دونوں باتیں حل ہو جائیں اور پھر جو کچھ ہم نے کہنا ہو وہ اپنے اندر اہمیت بھی رکھتا ہو تو ہماری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جسے یورپ کے لوگ آجکل خاص طور پر اہمیت دیتے ہیں بالخصوص اخبارات کے نمائندے جب کہ کے نمائندے جب کسی لیڈر سے ملتے ہیں تو اُس سے۔ سے کہتے ہیں آپ کا پیغام کیا ہے یعنی آپ دنیا کو وہ کونسی بات بتانا چاہتے ہیں جسے وہ جانتی نہیں ۔ یا جس کو وہ بھولی ہوئی ہے اور اُسے یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ لیکن چونکہ وہ ایک عظیم الشان مضمون کو چند لفظوں میں بیان کرانا چاہتے ہیں اس لئے بسا اوقات بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ در حقیقت یہ غلط فہمی یوروپین نامہ نگاروں اور یوروپین مصنفین کو مسیحیت سے لگی ہے ۔ مسیحیت نے یہ کہہ کر کہ شریعت لعنت ہے ا تمام مذہبی تفصیلات کو بے کار قرار دے دیا ہے اور صرف اور صرف اس ایک نقطہ نگاہ کو پیش کیا ہے کہ خدا محبت ہے۔ اس ایک نقطہ کو لے کر انہوں نے باقی ساری چیزوں کو ترک کر دیا ہے اور پھر ” خدا محبت ہے کی ترجمانی بھی انہوں نے خدا کے سپرد نہیں کی بلکہ اپنے ذمہ لے لی ہے۔