انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 352

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۵۲ میری مریم پالتی ہے میں ان کو پالوں گی اور دوسرے دن قیوم اور رشید کو لا کر میں نے ان کے حوالے کر دیا نہ اُنہیں اور نہ مجھے معلوم تھا کہ ہم اس وقت ان کی موت کے فیصلہ پر دستخط کر رہے تھے کیونکہ اس ذمہ واری کی وجہ سے انہیں بھی اور مجھے بھی بہت تکالیف پہنچیں مگر ہم ان تکالیف کی وجہ سے محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب ہیں ۔ مجھے امتہ الحی بہت پیاری تھی اور پیاری ہے مگر میں دیانتداری سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر وہ زندہ رہتیں تو اس طرح اپنے بچوں کی بیماری میں ان کی تیمار داری کر سکتیں جس طرح مریم بیگم نے ان کے بچوں کی بیماریوں میں ان کی تیمار داری کی ۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی روح کو اپنی گود میں اُٹھا لے اور اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی فضل فرمائے ۔ اُنیس سالہ لڑکی کا یکدم تین بچوں کی ماں ہو جانا کوئی معمولی بات نہ تھی مگر اُنہوں نے خوشی سے اور جوش سے اس بوجھ کو اُٹھایا اور میری اُس وقت مدد کی جب ساری دنیا میں میرا کوئی مددگار نہ تھا۔ انہوں نے مجھے اس وعدہ کی ذمہ واری سے سبکدوش کیا جس سے سبکدوش ہونا میرے بس کی بات نہ تھی ۔ میری نظروں کے سامنے وہ نظارہ آج بھی ہے جب میں قیوم اور رشید کو مرحومہ کے پاس لایا اور اُنہوں نے پُرنم آنکھوں سے اِن کو اپنے سینہ سے لگاتے ہوئے کہا کہ اب سے میں تمہاری اُمتی ہوں اور یہ سہمی ہوئی بچیاں بھی اُس وقت سسکتی ہوئیں ان کے گلے سے لگ گئیں ۔ محبت کے لئے دعا جو خدا نے سن لی میں نے ان سے اُس وقت وعدہ کیا کہ مریم ! تم ان بے ماں کے بچوں کو پالو اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تم سے بہت محبت کروں گا اور میں نے خدا تعالیٰ سے رورو کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی محبت میرے دل میں پیدا کر دے اور اُس نے میری دعا سن لی ۔ میں نے اُس دن سے ان سے محبت کرنی شروع کر دی۔ ان کی طرف سے سب انقباض دل سے نکل گیا اور وہ میرے دل پر مسلط ہو گئیں۔ ان کی وہی شکل جو میری آنکھوں میں چھتی تھی ، اب مجھے ساری دنیا میں حسین ترین نظر آنے لگی اور ان کا لا ابالی پن جس پر میں بُرا منایا کرتا تھا اب مجھے ان کا پیدائشی حق معلوم دینے لگا ۔