انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 348

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۴۸ اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّطْنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ میری مریم انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِرْجِعُوْنَ لَ بلانے والا ہے سب سے پیارا میری مریم اسی به اے دل تو جاں فدا کر لمس رقم فرمودہ حضرت خلیفة المسیح الثانی ) رَضِيْتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِيناً وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْقُرْآنِ حَكَماً ۔ ں سال کے قریب ہوئے حضرت مسیح موع سیدہ ام طاہر کا بچپن نے ڈاکٹر سیدعبد الستار شاہ صاب کی لڑکی مریم بیگم کا تقات ہمارے مرحوم بھائی مبارک احمد سے پڑھوایا ۔ اس نکاح کے پڑھوانے کا موجب غالباً بعض خوا میں تھیں جن کو ظاہری شکل میں پورا کرنے سے ان کے انذاری پہلو کو بدلنا مقصود تھا مگر اللہ تعالی کی مشیت پوری ہوئی اور مبارک احمد مرحوم اللہ تعالیٰ سے جاملا اور وہ لڑکی جو ابھی شادی اور بیاہ کی حقیقت سے نا واقف تھی بیوہ کہلانے لگی ۔ اُس وقت مریم کی عمر دو اڑھائی سال کی تھی اور وہ حقیقت سے نا واقف کہلانے لگی۔ اس وقت مریم عمر دو اُن کی ہمشیرہ زادی عزیزہ نصیرہ اکٹھی گول کمرہ سے جس میں اُس وقت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم ٹھہرے ہوئے تھے کھیلنے کے لئے اوپر آ جایا کرتی تھیں اور کبھی کبھی گھبرا کر جب منہ بسور نے لگتیں تو میں کبھی مریم کو اُٹھا کر کبھی نصیرہ کو اُٹھا کر گول کمرہ میں چھوڑ آیا کرتا تھا اُس وقت مجھے یہ خیال بھی نہ آ سکتا تھا کہ وہ بچی جسے میں اُٹھا کر نیچے لے جایا کرتا ہوں کبھی میری بیوی بننے