انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 5

انوار العلوم جلد ۱۷ ♡ محبت الہی ہی ساری ترقیات کی جڑ ہے اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو جائے وہ اس میں ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو اس کام کے کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے، جو خدا تعالیٰ سے خاص تعلق رکھنے والے ہوں گے اور اُس کے کلام اور پیغام کی اندرونی اور بیرونی طور پر اشاعت کرتے رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس جماعت کے کمزوروں کو اس طرح اپنی گود میں اُٹھا لے گا جس طرح ماں اپنے پیارے بچہ کو اُٹھا لیتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی روحانی ترقی کا سارا دارو مدار گلی طور پر بغیر کسی استثناء کے اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ وابستہ ہے۔ جس انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت قائم رہے، جس کے دل میں یہ تڑپ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی گود میں داخل ہو جاؤں اور اُس کے دامن کو پکڑلوں ، ایسا انسان کبھی بھی خواہ وہ کتنے ہی گناہوں میں ملوث ہو گناہوں کی موت نہیں مرتا اور نہیں مرسکتا ۔ جن دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہو اُن کے گناہ ایسے ہوتے ہیں جیسے جسم کو تیل مل کر اوپر سے پانی ڈال دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا نام مسیح رکھا اور مسیح کے معنی یہی ہیں کہ جسے تیل ملا گیا ہو اور یہ جو آیا ہے کہ مسیح اور اُس کی ماں گنا ہوں سے پاک ہیں ۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کا تیل اُن کو مل دیا۔ جب شیطان آزمائش کے لئے اُن کے پاس آتا تو وہ آزمائش اُن پر سے اس طرح پھسل جاتی جس طرح تیل ملے جسم سے پانی پھسل جاتا ہے۔ اور وہ صلى الله ہمارے آنحضرت ﷺ کا درجہ حضرت مسیح سے افضل ہے کیونکہ تیل ملے جسم پر تو پانی ڈالا علی باہر چلا گیا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے شیطان کو مسلمان کر دیا ہے گویا حضرت مسیح کی کیفیت تو یہ تھی کہ بد تحریکیں اُن پر اثر نہ ڈالتی تھیں اُن کے ساتھ جب کوئی بدی ٹکراتی تو بجائے جسم میں داخل ہونے کے پھسل کر دور چلی جاتی مگر رسول کریم ﷺ کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی آپ پر بداثر ڈالنا چاہتا تو اُس کی بات آپ کے رسول کریم اے کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی آپ کے کوئی براثر ڈالنا تو صلى الله عروسه کان میں جاتے ہی نیک تحریک بن جاتی ۔ گویا ان دونوں روحانی معجزہ دکھانے والوں کی مثال یہ ہے کہ ایک پر پتھر پڑتے مگر اُسے چُھو کر نیچے گر پڑتے اور دوسرے پر پتھر پڑتے لیکن اُس کے ہاتھ میں آتے ہی کوئی پتھر آم بن جاتا ، کوئی سیب بن جاتا ، کوئی انار بن جاتا اور وہ اُسے کھا لیتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ جس کے جسم پر پتھر پڑیں اور اُسے گزند نہ پہنچائیں وہ خدا تعالیٰ کی