انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 327

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۲۷ غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ صلى الله کیا تم کو چھ ہزار میل دور دس ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پر اس لئے بھیجا گیا تھا کہ تم مسلمانوں اور تم مسلمانوں اور ہندوں اور سکھوں اور عیسائیوں کے درمیان عدل و انصاف کرو یا تمہیں اس لئے بھیجا گیا تھا کہ تم اپنے اکثر اوقات کو ایک ایسے کام کے لئے خرچ کرو جس سے مسلمان رعایا کے دل دُکھیں ۔ پس فرق کیا ہے؟ فرق یہی ہے کہ احمدی رنگروٹ ایک کمزور اور ضعیف قوم کا فرد ہے لیکن سرمیور ایک حاکم قوم کا فرد ہے اس لئے جو بات اس کے لئے جائز ہے وہ کسی دوسرے کے لئے جائز نہیں ۔ ایک انگریز کے لئے اپنے مذہب کی تبلیغ جائز ہے، ایک عیسائی کے لئے اپنے مذہب کی تبلیغ جائز ہے لیکن ایک احمدی کے لئے اپنے مذہب کی تبلیغ ان کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ تو آج جس طرح رسول کریم ﷺ پر حملے ہو رہے ہیں وہ کوئی مخفی بات نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے ۔ ہم فلسفہ کی کتابوں کو اُٹھاتے ہیں تو وہ اسلام کے خلاف نظر آتی ہیں ، ہم سائنس کی کتابوں کو دیکھتے ہیں تو وہ اسلام کے خلاف نظر آتی ہیں ۔ ہم تاریخ کی کتابوں کو دیکھتے ہیں تو وہ اسلام کے خلاف نظر آتی ہیں ۔ آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے قرآن نے مسلمانوں کو ایک سبق دیا تھا جس کو بد قسمتی سے مسلمانوں نے بھلا دیا لیکن یورپ نے اس کو اختیار کر لیا۔ قرآن نے بتایا تھا کہ لكل وجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا ے ہر شخص کے سامنے ایک مقصود اور مطمح النظر ہوتا ہے جو ہر وقت اُس کے سامنے رہتا ہے۔ یا د رکھو تمہارا بھی ایک مطمح نظر ہونا چاہئے ۔ یہ نہ ہو کہ تشتت قومی کے ماتحت کوئی کسی مقصد کو اپنے سامنے رکھے اور کوئی کسی مقصد کو یا فرمایا تھا۔ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَ اے مسلمانو ! تم مدینہ میں تو آ گئے ہو مگر یا د رکھو اسلام کی ترقی فتح مکہ کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے تم جہاں بھی جاؤ یہ مقصد تمہارے سامنے رہنا چاہئے کہ ہم نے چکر کاٹ کر بہر حال مکہ میں پہنچنا ہے اور جس طرح ہو اس کو فتح کرنا ہے ۔ جب تک یہ مرکز اور یہ قلعہ تمہیں حاصل نہیں ہوگا سارے عرب اور پھر ساری دنیا پر تمہیں غلبہ میسر نہیں آ سکے گا۔ یہ سبق آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے مسلمانوں کو دیا گیا۔ مسلمان اس سبق کو بھول گئے لیکن یورپ نے اس سبق کو سیکھا اور افسوس کہ کس ظالمانہ طور پر سیکھا۔ اُس نے دیکھ لیا کہ اسلام کا نقطۂ مرکزی محمد ﷺ کی ذات ہے۔ چنانچہ یورپ کا جو مصنف بھی اُٹھتا ہے محمد ﷺ کی صلى الله صلى الله