انوارالعلوم (جلد 17) — Page 314
انوار العلوم جلد ۱۷ لله اله تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض بہر حال یہ ایک ابتدائی کام ہے اور جیسا کہ بتایا گیا ہے ایسے لڑکے کالج میں نہیں آئے جو بڑے بڑے نمبروں پر پاس ہوئے ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے پروفیسر کوشش کریں اور وَالنَّزِعَاتِ غَرْقاً کے کے ماتحت اپنے فرض کی ادائیگی میں پوری طرح منہمک ہو جائیں اور وہ سمجھ لیں کہ تعلیمی طور پر تربیت تعلیم سے باہر نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ ہی شامل ہے ہم نے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو لڑ کے ہمارے ہاں تعلیم پائیں وہ تعلیم میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں ، وہ تربیت میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں ، وہ اخلاق فاضلہ میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں تو یقیناً وہ ان ان گھڑے جواہرات کو قیمتی ہیروں میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اخلاص اور تقویٰ اور خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کر کریں اور لڑکوں کی تعلیمی حالت بھی بہتر بنائیں ، ان کی اخلاقی حالت بھی بہتر بنائیں اور ان کی مذہبی حالت بھی بہتر بنا ئیں ۔ میں اس موقع پر اساتذہ اور طلبا دونوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد دوسرے کالجوں سے زیادہ بلند اور اعلیٰ ہے۔ کئی باتیں اس قسم کی ہیں جو دوسرے کالجوں میں جائز سمجھی جاتی ہیں لیکن ہم اپنے کالج میں اُن باتوں کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ طلباء کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے افسروں کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کریں اور اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے افسروں کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کریں اور ان افسروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے سے بڑے افسروں کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔ اگر کسی شخص کو کوئی شکایت پیدا ہو تو اسلامی طریق کے رُو سے یہ جائز ہے کہ وہ بالا افسر کے پاس اُس معاملہ کو پہنچائے اور حقیقت ظاہر کرے اور اگر وہ افسر توجہ سے کام نہ لے تو اُس سے بھی بالا افسر کے پاس اپیل کرے۔ یہ دروازہ ہر شخص کے لئے کھلا ہے اور وہ اس سے پوری طرح فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ ہمارا یہ طریق نہیں کہ جب تک ایجی ٹیشن نہ ہو ہم کسی کی بات نہیں سنتے ۔ ہم صداقت کو ایک ادنیٰ سے ادنی انسان کے منہ سے سُن کر بھی قبول کرنے کیلئے تیار ہیں بلکہ صداقت اگر ایک چوہڑے کے منہ سے نکلے تو ہم اُس کو بھی ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر صداقت نہ ہو تو خواہ سارا کا لج مل کر زور لگائے ہم وہ بات تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ پس جو روایت ہمارے سکول میں