انوارالعلوم (جلد 17) — Page 2
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲ محبت الہی ہی ساری ترقیات کی جڑ ہے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبت الہی ہی ساری ترقیات کی جڑ ہے تقریر فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۴۳ء بر موقع افتتاح جلسہ سالانہ ۔ قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ سب سے پہلے تو دوست میرے ساتھ مل کر اللہ تعالی سے دعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس جلسہ کو اپنے منشاء کے مطابق پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری ان نا چیز کوششوں کو بہت بڑے ثمرات پیدا کرنے کا موجب بنائے اور یہ جو چھوٹا سا بیج ایک ایسی زمین میں جو اس سے پہلے پھل دینے سے عاری تھی لگایا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بار جو اُسی طرح بار آور فرمائے جس طرح اُس نے اُس پیج کو بار آور فرمایا جو وادی غَيْرِ ذِي زَرَع میں بویا گیا تھا۔ مکہ کا ایک ایسی جگہ واقع ہونا جو غَيْر ذِي زَرَع تھی خود اپنی ذات میں ایسی بات نہ تھی جو قرآن کریم میں خصوصیت سے بیان کی جاتی مگر اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ مکہ کی بستی ایک ایسی جگہ بسائی گئی جہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہوتی اس میں اس روحانی تقابل کی طرف اشارہ تھا کہ یہ وہ زمین ہے جو ہر قسم کے انسانوں کے بوئے ہوئے بیجوں کو رڈ کر دیتی تھی ۔ اس میں خدا نے بیج لگایا ہے جو ایسے پھل دے گا کہ کوئی اور آبادی جو زراعت کے لحاظ سے مشہور ترین ہو وہ بھی مقابلہ نہ کر سکے گی ۔ ویسی ہی یہ قادیان کی زمین بھی ہے۔ دُنیوی تہذیب و تمدن کے مراتب سے دور، تعلیمی مراتب سے دور، دینیات اور دینی علوم کے مرکز سے دور ایک گوشہ میں پڑی ہوئی ہے ، ملک کے ایک ایسے صوبہ میں واقع ہے جو دوسرے صوبوں کے لوگوں کے مقابلہ میں