انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 307

انوار العلوم جلد ۱۷ ٣٠٧ تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی اغراض ہوا ہو جس نے کہا ہو کہ خدا کے متعلق لوگوں کے دلوں میں جو خیال پایا جاتا تھا وہ موجودہ تحقیق نے غلط ثابت کر دیا ہے؟ آدم سے لیکر اب تک ہمیشہ ایسے وجود آتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ سے دنیا کے سامنے یہ حقیقت پیش کی کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے اور پھر دلائل و براہین سے اُس کے وجود کو ایسا ثابت کیا کہ دنیا ان دلائل کا انکار نہ کرسکی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم خدا کی طرف سے کھڑے ہوئے ہیں اور خدا کی ہستی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہمیں کامیاب کرے گا ۔ چنانچہ دنیا نے اُن کی مخالفت کی مگر خدا نے اُن کو کامیاب کر کے دکھا دیا اور اس طرح ثابت کر دیا کہ اس عالم کا حقیقتاً ایک قادر اور مقتد رخدا۔ قادر اور مقتدر خدا ہے جو اپنے پیاروں سے کلام کرتا اور مخالف حالات میں اُن کو کامیاب کرتا ہے ۔ پس خدا کے وجود پر انبیاء کی متفقہ گواہی ایک قطعی اور یقینی شہادت ہے جو اُس کی ہستی کو ثابت کر رہی ہے ۔ آج تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے اپنے سے پہلے آنے والے نبی کی تردید کی ہو۔ ہر سائنسدان پہلے سائنسدان کی تردید کرتا ہے، ہر فلاسفر پہلے فلاسفر کی تردید کرتا ہے، ہر صلى الله الله ہر حساب دان پہلے حساب دان کی تردید کرتا ہے مگر انبیاء کا وجودا ایسا ہے کہ ہر نبی جو دنیا میں آتا ہے وہ اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء کی تصدیق ہی کرتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ اُن کی تردید کرے، وہ اُن کی لائی ہوئی صداقتوں کو باطل ثابت کرے ۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں پیش کیا تھا جسے عیسائیوں نے غلطی سے نہ سمجھا اور اعتراض کر دیا کہ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ ۔ یعنی دنیا میں ایک ہی سلسلہ ہے جس میں ہر آنے والا اپنے سے پہلے کی تصدیق کرتا ہے اس کی تکذیب اور تردید نہیں کرتا ۔ آدم سے لیکر حضرت محمد مصطفی تکاور محمد ﷺ سے لیک مسیح موعود تک ایک نبی بھی ایسا نہیں دکھایا جا سکتا جس نے پہلے انبیاء اور اُن کی لائی ہوئی صداقتوں کا انکار ہو بلکہ وہ ہمیشہ پہلوں کی تصدیق کرتا ہے ۔ لیکن دوسرے تمام علوم چونکہ ظنی ہیں ، وہمی اور خیالی ہیں اس لئے ہر نئی سائنس پہلی سائنس کی تردید کرتی ہے اور ہر نیا فلسفہ پہلے فلسفہ کی تردید کرتا ہے، ہر نیا حساب پہلے حساب کی تردید کرتا ہے۔ بیشک انبیاء کی تعلیمیں منسوخ بھی ہوتی ہیں مگر منسوخ ہونا اور چیز ہے اور ان تعلیموں کو غلط قرار دینا اور چیز ہے ۔ فلسفہ والے کہتے ہیں کہ کیا