انوارالعلوم (جلد 17) — Page 290
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۹۰ زندگی وقف کرنے کی تحریک تیسرے چوتھے دن کسی غریب کو خیال آیا اور وہ رات کے وقت انہیں ایک روٹی دے گیا مگر معلوم ہوتا ہے وہ کوئی بہت ہی غریب شخص تھا کیونکہ روٹی سات آٹھ دن کی تھی اور ایسی سوکھی ہوئی تھی دن کی اور جیسے لوہے کی تھالی ہوتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں روٹی لے کر انتہائی افسردگی کے عالم میں بیٹھ گئے اور حیرت سے منہ میں انگلی ڈال کر اپنی حالت پر غور کرنے لگے کہ کس حد تک ہماری حالت گرچکی ہے۔ میراثی اُن کے چہرے کے رنگ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس وقت یہ سخت غم کی حالت میں ہیں اور اُس نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو یہ صدمے سے بیمار ہو جائیں ، میراشیوں کو چونکہ ہنسی کی عادت ہوتی ہے اس لئے اُس نے سمجھا کہ اب مجھے کوئی مذاق کر کے ان کی طبیعت کا رُخ کسی اور طرف بدلنا چاہئے ۔ چنانچہ وہ مذاقاً کہنے لگا۔ مرزا جی ! میرا حصہ ۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کوئی حصے والی چیز نہیں مگر چونکہ وہ چاہتا تھا کہ ان کا صدمہ کسی طرح دور ہو اِس لئے اُس نے مذاق کر دیا۔ اُنہیں یہ سن کر سخت غصہ آیا اور اُنہوں نے زور سے روٹی اُس کی طرف پھینکی جو اُس کی ناک پر لگی اور خون بہنے لگ گیا۔ یہ دیکھ کر وہ اُٹھے اور میراثی سے ہمدردی کرنے لگے ۔ اس طرح اُن کی دماغی حالت جو صدمہ سے غیر متوازن ہو گئی تھی درست ہو گئی ورنہ خطرہ یہی تھا کہ وہ اس غم سے کہیں پاگل نہ ہو جائیں ۔ پھر خدا نے اُن کیلئے ایسے سامان پیدا فر ما دیئے کہ وہ وہاں سے خوب علم پڑھ کر واپس آئے ۔ تو جب انسان کسی بات کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے اصل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ قربانی کی قدر کرتا ہے ۔ اگر لوگ دیکھیں کہ واقعہ میں کوئی شخص تکلیف اُٹھا رہا ہے اور دوسروں کے فائدہ کے لئے اپنے نفس کو مشقت میں ڈال رہا ہے تو اُن کے دلوں میں ضرور جوش پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی اس سے کوئی نیک سلوک کر کے ثواب میں شامل ہو جائیں ۔ ( عشاء کی نماز کے بعد فرمایا ) میں نے جو تبلیغ کی سکیم بتائی ہے اس سے میری غرض یہ ہے کہ دوست اس کی اہمیت کو سمجھیں اور یہ بھی جان لیں کہ ان تبلیغی اخراجات کو برداشت کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی راہ نہیں کہ ہم دعاؤں میں مشغول