انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 254

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۵۴ اہالیان لدھیانہ سے خطاب دس سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگا۔ تو ایسے حالات میں ل نہیں گزرنے پائیں گے کہ ان عمارتو جماعت کی امامت ایک ایسے ایسے شخص کے سپر د ہوئی جو نہ دُنیوی سپرد ہوئی جو نہ دُنیوی علوم رکھتا تھا اور نہ دینی مگر جیسا که حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں خبر دی گئی تھی اللہ تعالیٰ کا اِس کے متعلق یہ وعدہ تھا کہ وہ ظاہری اور باطنی علوم سے پُر کیا جائے گا اور خدا تعالیٰ اُسے آسمان سے اپنے علوم سکھائے گا اور فرشتے وہ علوم اُسے پڑھائیں گے جو دین کے لئے ضروری ہیں ۔ میری حالت یہ تھی کہ میں انگریزی کی دو سطر میں بھی صحیح نہیں لکھ سکتا تھا لیکن اللہ تعالی نے اپنے فضل سے خود میری ایسی تربیت کی کہ ہر علم میں مجھے ملکہ عطا کیا اور ہر قسم کے علوم سکھائے۔ میں نے کئی دفعہ یہ دعوی کیا ہے کہ کسی علم کا کوئی کتنا بھی ماہر کیوں نہ ہو وہ اپنے علم کے رو سے قرآن کریم پر کوئی اعتراض کرے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اُسے مُسکت جواب دوں گا۔ پھر ( با وجود اس کے کہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے اور میں سیاسی آدمی نہیں ) سیاسیات میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا ملکہ اور شعور عطا کیا کہ سر فضل حسین صاحب نے ایک دفعہ مجھے کہلا بھیجا کہ آپ سیاسیات میں کیوں دخل نہیں دیتے ؟ مولوی فضل الحق صاحب صاحب سابق وزیر اعظم بنگال اور عبداللہ سہروردی صاحب نے کہا کہ ہم آپ کے سیاسی مرید ہیں اور ڈاکٹر محمود صاحب نے میرے ایک سیاسی رسالہ کا ذکر کر کے کہا کہ میں اسے ہر وقت جیب میں رکھتا ہوں ۔ غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیاسی امور میں بھی ہمیشہ میرا مشورہ ٹھیک ثابت ہوا ہے ۔ جب دہلی میں خلافت کا نفرنس ہوئی تو مجھے بھی اُس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ۔ میں نے ایک رسالہ رکھ کر وہاں تقسیم کرانے کے لئے بھیج دیا اور اُس میں بعض مشورے اِس تحریک کی کامیابی کے لئے دیئے مگر اُس وقت کار پردازوں نے اُن پر توجہ نہ کی اور عمل کرنے سے انکار کر دیا مگر وفات سے کچھ عرصہ قبل مولانا شوکت علی صاحب مجھ سے ملے تو انہوں نے بتایا کہ فلاں فلاں وجہ سے ہماری یہ تحریک فیل ہو گئی ہے۔ میں نے کہا ہوگئی کہ میں نے فلاں فلاں مشورہ آپ لوگوں کو دیا تھا اگر آپ اُن پر عمل کرتے تو آج نا کامی کا منہ دیکھنا نہ پڑتا ۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا کہ مجھے آپ کا وہ رسالہ نہیں ملا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے سیاسیات میں بھی مجھے راہنمائی کی توفیق دی ۔ اسی طرح اقتصادیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے راہنمائی کی توفیق دی جس کے نتیجہ میں