انوارالعلوم (جلد 17) — Page 244
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۴۴ اہالیان لدھیانہ سے خطاب بالتفصیل بیان کی گئی ہیں ۔ اس پیشگوئی پر مختلف اعتراض کئے گئے اور کہا گیا کہ کسی کے ہاں بچہ پیدا ہونا کوئی بڑی بات نہیں لوگوں کے ہاں بچے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دیا کہ اول تو اس عمر میں انسان موت کے قریب ہوتا ہے ۵۵ سال کی عمر میں گورنمنٹ بھی پنشن دے دیتی ہے گویا وہ یہ بجھتی ہے کہ اب یہ ہمار ہمارے - کا نہیں رہا۔ ہمارے ملک میں اوسطاً عمر ۲۶ سال ہے اور آپ گویا اُس وقت اِس سے دُگنی عمر پا چکے تھے۔ ایسی عمر میں گو اولاد کا ہونا ناممکن نہیں مگر ستر فیصدی لوگوں کے ہاں نہیں ہوتی مگر آپ نے پیشگوئی فرمائی کہ آپ کے ہاں اولاد ہوگی ، پھر اگر اولا د ہو بھی تو کون سا قانون ہے جس کے ماتحت کوئی یہ دعوی کر سکے کہ وہ زندہ بھی ضرور رہے گی ، پھر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک اس کے ہاں اولا د ہوتی رہے گی ، کئی بچے زندہ رہیں گے اور بعض کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور پھر اس اولاد میں سے ایک لڑکا ایسا ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا خاص طور پر وارث ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان ہوگا ۔ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اس قسم کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور اگر کوئی جھوٹ بولے تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو بھی سمجھا دے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولو اور اگر کوئی کہہ بھی دے تو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ شریر اور جھوٹے آدمی کی اولاد ایسی نہ ہو ۔ ابوجہل کے لڑکے عکرمہ کی مثال ہمارے سامنے ہے اُنہوں نے شہادت کا درجہ پایا۔ پس اگر کوئی شخص اپنی اولاد کو نصیحت بھی کر دے کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرو تو کیا یہ ممکن نہیں کہ لڑکوں میں ایسا شعور ، نیکی اور تقویٰ ہو کہ وہ کہہ دیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ رسول کریم ﷺ نے خواب دیکھا تھا کہ آپ کے سامنے جنت کے انگوروں کا ایک خوشہ لایا گیا ہے اور پھر آپ کو بتایا گیا کہ یہ ابو جہل کے لئے ہے۔ یہ خواب دیکھ کر آپ گھبرا کر اُٹھ بیٹھے مگر در حقیقت اس کی تعبیر یہ تھی کہ اس کے لڑکے عکرمہ گو جنت ملے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے لڑکے کو ایسا نیک کیا کہ اس نے دین کے لئے شاندار قربانیاں کیں ۔ ایک جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔ عیسائی تیرانداز تاک تاک کر مسلمانوں کی آنکھوں میں تیر مارتے تھے اور صحابہ شہید ہوتے جاتے تھے۔ عکرمہ نے کہا مجھ سے