انوارالعلوم (جلد 17) — Page 242
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۴۲ اہالیان لدھیانہ سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اہالیانِ لدھیانہ سے خطاب ( تقریر فرموده ۲۳ / مارچ ۱۹۴۴ء بمقام لدھیانہ ) تشهد ، تعوذ ، سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کی بعض ادعیہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں آج اس جگہ اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ آج سے ۵۵ سال پہلے اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی خبروں اور اُس کے ارشاد فرمائے ہوئے حکم کے ماتحت اس شہر لدھیانہ میں ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے بیعت لی تھی اور اس بیعت کے وقت صرف چالیس آدمی آپ پر ایمان لانے والے تھے۔ یہ ساری کی ساری پونجی تھی جسے لیکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کی فتح کیلئے کھڑے ہوئے تھے باقی تمام دنیا ہندو، عیسائی، سکھ، ہندوستانی ، ایرانی ، عرب ، چین اور برطانیہ وغیرہ سب کے سب آپ کے مخالف تھے اور آپ کو مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے مگر ان مخال ۔ ان مخالفتوں کے باوجود آپ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر دنیا کو بتایا کہ: دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا لیے اس اعلان کے بعد با وجود شدید مخالفتوں کے اللہ تعالیٰ نے آپ کے سلسلہ کو بڑھانا شروع کیا مگر اس وقت میں جس چیز کو بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بیعت سے بھی قبل یعنی ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جیسا کہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد۔ ایم ۔اے جو لدھیانہ ہی کے باشندے ہیں ابھی آپ کو بتا چکے ہیں اپنے تین خدام کے