انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxv of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxv

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۸ تعارف کتب جب تک ہم یہی نمونہ نہیں دکھاتے جو غزوہ حنین کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے جواب میں صحابہ کرام نے دکھایا ، جب تک روحانی طور پر اس نظارہ کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے یہی آواز ہماری روح سے نہیں نکلتی کہ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لیگ ! ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنے ایمان کا کوئی ثبوت پیش کیا ہے۔ (۱۵) خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وابستہ رہو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ تقریر دلپذیر مؤرخہ ۲۵ ، جون ۱۹۴۴ء کو بعد نماز عصر ایک تقریب کے موقع پر قادیان میں ارشاد فرمائی جو مؤرخہ ۲۴ رمئی ۱۹۶۰ ء کو پہلی دفعہ روزنامہ الفضل میں شائع ہوئی ۔ اس تقریر میں حضور نے انبیاء علیہم السلام کی تاریخ بیان کرتے ہوئے یہ نقطہ بیان فرمایا کہ تمام انبیاء اپنی دینی ڈیوٹی سرانجام دے کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر خدا تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے قائم چلی آ رہی ہے ۔ ہر شخص جو اُس سے تعلق پیدا کر لیتا ہے وہ ہمیشہ اپنی جڑیں اُس زمین میں پائے گا جو خدا کی رحمت کے پانی سے سیراب ہوتی ہیں کیونکہ اس تعلق کیلئے موت نہیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی کو دائمی زندگی بنا ئیں تو اس کیلئے اس زمانہ کے مامور اور نبی اللہ کے ذریعہ قائم کردہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم رکھنے کا اب یہی ایک ذریعہ ہے۔ اس لئے خلافت احمد یہ کو قائم رکھنا اور اس کے ساتھ وابستگی رکھنا ہمارا فرض ہے اور اس پر ہماری روحانی زندگی کا انحصار ہے۔ آپ فرماتے ہیں:۔ اب یہ ہماری جماعت کا کام ہے کہ وہ اس غفلت اور کوتاہی کا ازالہ کرے اور خلافت احمدیہ کو ایسی مضبوطی سے قائم رکھے کہ قیامت تک کوئی دشمن اس میں رخنہ اندازی کرنے کی جرات نہ کر سکے اور جماعت اپنی روحانیت اور اتحاد اور تنظیم کی برکت سے ساری دنیا کو اسلام کی آغوش میں لے آئے“۔