انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 216

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۱۶ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں میں اس بات کا امتحان لینا چاہتا ہوں کہ یہ خواب تیری طرف سے تھا یا میرے نفس کا دھوکا تھا ۔ اگر یہ خواب تیری طرف سے تھا تو تو مجھے سورہ فاتحہ کا ہی آج کوئی ایسا نکتہ بتا جو اس سے پہلے دنیا کے کسی مفسر نے بیان نہ کیا ہو۔ چنانچہ اِس دعا کے معاً بعد خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ایک نکتہ ڈالا اور میں نے کہا دیکھو ! قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے کہ غیر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّايِّينَ کے مسلمانو ! تم پانچ نمازوں میں اور اپنی نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا کیا کرو کہ ہم مغضُوبِ اور صال نہ بن جائیں ۔ مَغْضُوبِ کے معنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثوں میں خود بیان فرمائے ہیں ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں مَغْضُوبِ کے معنی ہیں الْيَهُود اور ضال کے معنی ہیں نصاری ۱۸ پس غَيْرِ الْمَغْضُوبِ سے مراد یہ تھا کہ الہی ! ہم یہودی نہ بن جائیں اور ولا الضالین سے مراد یہ تھا کہ ہم نصاری نہ بن جائیں ۔ اس امر کی مزید وضاحت اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ اِس اُمت میں ایک مسیح آئے گا ۔ پس جو لوگ اُس کا انکار کریں گے وہ لازماً یہود صفت بن جائیں گے۔ دوسری طرف آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عیسائیت کا فتنہ ایک زمانہ میں خاص طور پر بڑھ جائے گا لوگ روٹی کے لئے ، ملازمت کے لئے سوسائٹی میں عزت حاصل کرنے کے لئے عیسائیت اختیار کر لیں گے یا دھوکا کھا کر اور اپنے مذہب کی تعلیم کو نہ سمجھ کر عیسائیت قبول کر لیں گے ولے مگر یہ عجیب بات ہے کہ سورہ فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی اور اُس وقت نہ عیسائی اسلام کے زیادہ مخالف تھے اور نہ یہودی اسلام کے زیادہ مخالف تھے ۔ اُس وقت سب سے زیادہ مخالفت مکہ کے بُت پرستوں کی طرف سے کی جاتی تھی ۔ مگر دعا یہ نہیں سکھائی گئی کہ الہی ! ہم بُت پرست نہ بن جائیں بلکہ دعا یہ سکھائی گئی ہے کہ الہی ! ہم یہودی یا نصاری نہ بن جائیں اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سورۃ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمادی تھی کہ مکہ کے بت پرست ہمیشہ کے لئے مٹا دیئے جائیں گے اور اُن کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا۔ پس اس بات کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کے متعلق مسلمانوں کو کوئی دعا سکھائی جائے ہاں یہودیت اور عیسائیت یا دونوں باقی رہیں گے اور تمہارے لئے ضروری ہوگا کہ ان کے فتنہ سے بچنے کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہو۔ جب میری یہ تقریر ہو چکی تو بعد میں بڑے بڑے