انوارالعلوم (جلد 17) — Page 207
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۰۷ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں دی۔ معلوم ہوا کہ ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست جو پٹھان ہیں اُنہوں نے اُسے پکڑ لیا جو پٹھان ہیں اُنہوں نے اسے پکڑ لیا اور اُس کے نیفے میں سے چھرا نکال لیا۔ بعد میں اُس نے تسلیم کیا کہ میں واقع میں قتل کرنے کی نیت سے ہی آیا تھا۔ اِسی طرح یہاں لاہور میں ایک دفعہ ایک دیسی عیسائی کو پھانسی ہوئی ۔ جے میتھوز اُس کا نام تھا۔ اُس نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا جس کی پاداش میں سیشن جج نے اُسے پھانسی کی سزا دی ۔ اُس نے اپنے بیانات میں اس امر کا اظہار کیا کہ میں ایک دفعہ پستول لے کر مرزا محمود احمد کو مارنے کے لئے قادیان گیا تھا مگر ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ میں اُن سے مل نہ سکا اور وہ دریا پر چلے گئے ۔ پھر میں پستول لیکر اُن کے پیچھے پیچھے دریا پر گیا۔ وہاں ایک دن میں نے اُن کے ایک ساتھی کو بندوق صاف کرتے دیکھا جس سے میں ڈر گیا کہ بندوق تو دُور تک وار کر جاتی ہے، ایسا نہ ہو میں خود ہی مارا جاؤں چنانچہ میں واپس آ گیا اور اپنی بیوی سے کسی بات پر لڑ کر میں نے اُسے قتل کر دیا۔ یہ ایک عدالتی بیان ہے جو سیشن جج کی عدالت میں اُس نے لاہور میں دیا۔ اُس نے یہ بھی ذکر کیا کہ لوگوں کی جوش دلانے والی باتیں سن کر میں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تھا ۔ پھر اسی قسم کا ایک اور کیس ہوا ۔ ایک شخص ہماری دیوار پھاندتے ہوئے پکڑا گیا۔ بعد میں پولیس نے اُسے پاگل قرار دیکر چھوڑ دیا حالانکہ وہ دیوار پھاندتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا وہ قتل کرنے کی نیت سے ہی آیا تھا ۔ چوتھا واقعہ یہ ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے سالانہ جلسہ میں تقریر کر رہا تھا کہ پیچھے سے کسی شخص گئے نے ملائی دی کہ جلدی سے حضرت صاحب تک تک پہنچا دی جائے آپ تقریر کرتے کرتے تھک ہیں۔ چنانچہ گھبراہٹ میں لوگوں نے جلدی جلدی ملائی آگے پہنچانی شروع کر دی ۔ یہاں تک ۔ کہ وہ مسیج پر پہنچ گئی ۔ سٹیج پر کسی شخص کو ہوش آیا اور اُس نے ذراسی ملائی اپنی زبان پر لگائی تو لگاتے ہی اُس کی زبان کٹ گئی ۔ تب اِدھر اُدھر تلاش کیا گیا کہ ملائی دینے والا کون تھا مگر وہ نہ ملا ۔ غرض ہر رنگ میں دشمنوں نے مجھے مٹانے اور گرانے کی کوشش کی ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اُن کو نا کام و نا مرا درکھا۔