انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 148

انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۴۸ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان نہیں چاہا کہ تو مجھے خلیفہ مقرر کر دے ۔ اب جب کہ تو نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور تو نے خود مجھے اس کام کے لئے چنا ہے تو اے میرے رب ! تو مجھے طاقت بھی دے جس سے میں ان صنادید کا مقابلہ کر سکوں ورنہ میرے اندر ان کا مقابلہ کرنے کی قطعاً طاقت نہیں ۔ ان میں سے بعض میرے اُستاد ہیں اور باقی ایسے ہیں جن کا انجمن کے مال اور محکموں پر قبضہ ہے اُس وقت ہمارے اندر اتنی طاقت بھی نہ تھی کہ اگر یہ لوگ ہمیں کہتے مسجد سے نکل جاؤ تو ہم اپنی مسجد میں بھی ٹھہر سکتے ۔ غرض میں نے خدا سے یہ دعا کی ۔ رات کو جب میں لیٹا تو مجھے الہام ہوا۔ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور چونکہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور آج سے وہ تباہی و بربادی کے راستہ پر چل پڑے گی اس لئے خدا نے مجھے الہام کیا کہ لَيُمَنِّ قَنَّهُمُ اے محمود ! یہ لوگ جو اپنے علم اور اپنی طاقت اور اپنے جتھے اور اپنی دولت کے دعوے کر رہے ہیں ہم ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔ چنانچہ میں نے اُسی وقت اس مضمون کا ایک اشتہار شائع کر دیا وہ اشتہار آج تک موجود ہے غیر بھی گواہی دے سکتے ہیں اور اپنے بھی کہ اُس میں جو کچھ لکھا گیا تھا وہ کس شان سے پورا ہوا۔ میں نے اُس اشتہار کا ہیڈنگ ہی یہ رکھا تھا کہ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے ہونے پھر میں نے کہا تھا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ لَيُمَزِّ قَنَّهُمْ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اُس وقت ہماری جماعت کا ۹۵ فیصدی حصہ ان کے ساتھ تھا اور پانچ فیصدی ہمارے ساتھ تھا اور وہ لوگ فخر کے ساتھ اس بات کو شائع کرتے تھے کہ ہم وہ ہیں جن کے ساتھ عت کی اکثریت ہے اور یہ بات ہمارے حق پر ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔ لیکن ابھی تین ہفتے بات ہمارے ہو اس الہام پر نہیں گزرے تھے کہ جماعت کے ۹۵ فی صدی حصہ نے میری بیعت کر لی اور پانچ فیصد ان کے ساتھ رہ گئے ۔ یہ خدا کا وہ نشان ہے جو اُس نے پورا کیا اور جس میں بانی سلسلہ احمد یہ نے یہ خبر دی تھی کہ میرا ایک بیٹا ہوگا جو میرا خلیفہ ہوگا اور خدا اُس کی تائید کرے گا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر مقام پر میری تائید اور نصرت کرنی شروع کر دی ۔ - میں نے بتایا ہے کہ میں نے کسی قسم کی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے