انوارالعلوم (جلد 17) — Page 124
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۲۴ اسوه حسنه رہے ہیں بلکہ یہ درخواست کی کہ ہماری بہن کا ایک بیٹا عباس ہے اُس کا فدیہ معاف کر دیا جائے اور ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اُن سے فدیہ وصول نہ کریں۔ بنی نوع وع انسان کی ہدایت کیلئے تڑپ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیئے آپ کے دل میں جو تڑپ پائی جاتی تھی وہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِينَ ۵۷ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح بخاری میں آتا ہے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعود آپ کے پاس آئے ۔ آپ نے اُن سے فرمایا عبداللہ ! کچھ قرآن شریف پڑھ کر سناؤ ۔ انہوں نے کہا يَارَ سُولَ اللَّهِ ! وحی آپ پر نازل ہوتی ہے اور قرآن میں آپ کو پڑھ کر سناؤں آپ نے فرمایا ہاں مجھے دوسروں سے قرآن سننے میں مزا آتا ہے۔ انہوں نے سورۃ نساء کی چند آیتیں پڑھ کر سنا ئیں ۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے کہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَ جِنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شهیدا یعنی اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں کے متعلق بطور شاہد پیش کریں گے ۔ تو حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں مجھے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ٹھہر جاؤ ٹھہر جاؤ ۔ جب میں نے آپ کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے ۔ میں ابھی بتا چکا ہوں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو لوگوں کے سامنے کھڑا کرے گا اور فرمائے گا یہ وہ نمونہ ہے جس کی نقل کرنے کے لئے میں نے اسے دنیا میں بھیجا تھا۔ آج اگر تم اس نمونہ کے صلى الله مطابق نظر آئے تو تم جنت میں داخل کر دیئے جاؤ گے ورنہ اس نمونہ کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں تمہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔ جب حضرت عبداللہ بن مسعود قرآن کریم پڑھتے صلى الله علوس پڑھتے اس مقام پر پہنچے تو رسول کریم ﷺ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ نہ معلوم کتنے کتنے لوگ ہوں گے جو اس تعلیم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے دوزخ میں گرا دیئے جائیں گے۔ کیسی عظیم الشان نعمت تھی جو اُن کے سامنے پیش کی گئی مگر پھر کس قدر لوگ ہیں جو تعصب یا جہالت یا غصہ کی وجہ سے اس نعمت سے محروم ہو گئے اور وہ خدا تعالیٰ کے ابدی انعامات کو حاصل نہ کر سکے ۔ اس خیال کا پیدا ہونا تھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، رقت آپ پر غالب آگئی اور آپ نے فرمایا