انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 97

انوار العلوم جلد ۱۷ ۹۷ اسوه حسنه کہتی ہے کہ جاؤ ذرا منڈ پر درست کر آؤ تو وہ کہہ دیں گے کہ اللہ پر توکل کرو ۔ مطلب یہ ہوتا ہے یہ ہوتا ہے کہ مجھ سے اس وقت یہ کام نہیں ہو سکتا جو نقصان ہوتا ہے بیشک ہو جائے ۔ پس یہ ایک نفس کا دھوکا ہے ایمان نہیں ہے۔ ایسے لوگ ایماندار اور متوک رمتوکل نہیں ہوتے بلکہ سکتے اور قوم کیلئے بوجھ ہوتے ہیں۔ وہ قوم کی تباہی کا ذریعہ اور خدا کا ایک مجسم عذاب ہوتے ہیں ۔ اُن کو متوکل یا ایماندار کہنا تو کل اور ایمان کی ہتک کرنا ہے ۔ وہ شخص جسے خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین ہوا اور پھر ساتھ ہی اُسے یہ بھی یقین ہو کہ مجھے اُس نے ایک خاص مقصد کیلئے پیدا کیا ہے وہ ترک عمل کب کر سکتا ہے۔ وہ تو سب سے زیادہ عمل کرنے والا ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ متوکل نہیں ہوتے بلکہ سست لکھتے اور غافل ہوتے ہیں۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال آپ کے ایمان کی وجہ سے تھے کیونکہ جو شخص سمجھتا ہے کہ ایک خدا ہے اور اُس نے مجھے کسی خاص مقصد کیلئے پیدا کیا ہے وہ اُس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے کوشش بھی کرتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں ایمان کا اظہار کرتے ہیں ، جہاں غار ثور میں بیٹھے ہوئے حضرت ابو بکر سے کہتے ہیں ۔ ابوبکر ! مت گھبراؤ خدا مت گھبراؤ خدا ہمارے ساتھ ہے اور وہی ہمارا محافظ ہے، وہاں آپ دین کے دوسرے کاموں میں رات اور دن اس طرح مشغول رہتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے ساری خدائی کے کام آپ کے ہی سپرد کئے جا چکے ہیں ۔ پس ایک طرف اگر آپ کو یہ یقین تھا کہ خدا ہے اور وہ اپنے بندوں کی مدد کیا کرتا ہے تو دوسری طرف آپ خدا کا امتحان لیتے نظر نہیں آتے ۔ یہ نہیں کرتے کہ جب خدا نے کہہ دیا ہے کہ میں تجھے فتح دوں گا تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور کہیں کہ اب فتح کیلئے کسی کوشش کی کیا ضرورت ہے، اللہ اپنے وعدہ کے مطابق آپ فتح دے گا ۔ آپ ایسا نہیں کرتے بلکہ فتح کے لئے کوشش بھی کرتے ہیں ۔ چنانچہ آپ لوگوں کو فوجی کرتب سکھاتے ہیں ، دشمن کے مقابلہ کے لئے لشکر جمع کرتے ہیں ، سواریوں کا انتظام کرتے ہیں ، ہتھیا راکٹھے کرتے ہیں ، فوجیوں کے کھانے اور رہائش وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں ، پھر ان تمام انتظامات کو مکمل کرنے کے بعد دشمن سے لڑنے کیلئے جاتے ہیں اور جب کوئی ایسا وقت آتا ہے جب دشمن زیادہ ہوتا ہے اور صحابہ کم ہوتے ہیں تو آپ بڑے یقین اور وثوق اور ایمان کے ساتھ فرماتے ہیں کہ گو ہم تھوڑے ہیں مگر جیتیں گے ہم ہی ۔ پس جہاں تک انسانی تدابیر آپ کر