انوارالعلوم (جلد 17) — Page 89
انوار العلوم جلد ۱۷ ۸۹ اسوه حسنه حالانکہ بادی النظر میں اگر کفار چاہتے تو اُس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کو ہلاک کر سکتے تھے مگر ہوا یہ کہ اس واقعہ کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا ایک زندہ نشان دنیا میں قائم ہو گیا۔ ہمیشہ کے لئے دشمنوں کی ناکامی اور اُن کی خدا تعالیٰ کی نصرت سے محرومی کا ایک زندہ نشان دُنیا میں قائم ہو گیا ۔ ہمیشہ کیلئے دشمنوں پر حجت قائم کرنے کا خدا نے ته یہ سامان پیدا فرما دیا کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ خدا کا پیارا نہیں تھا ، اگر خدا اُس کے ساتھ نہیں تھا ، اگر اُس کی تائید اور نصرت کا نشان اُس کے شامل حال نہیں تھا تو یہ کسی طرح ہو گیا کہ تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی تباہی کا جو سامان کیا تھا وہ اُس کی طاقت وقوت کے بڑھانے کا ایک ذریعہ بن گیا۔ حضرت ابوبکر کے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ ضمنی طور پر میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ اِس موقع پر بعض لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے حضرت ابوبکر کے د ابوبکر کے دل میں ایمان نہیں تھا کیونکہ وہ گھبرا گئے اور انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ دشمن ہمیں پکڑ لیں گے ۔ حالانکہ اول تو یہ سوال ہے کہ اتنا بڑا ایمان دنیا میں کتنے لوگوں کے دلوں میں ہوتا ہے ۔ آخر ہر شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تو نہیں ہو سکتا کہ دشمن سر پر کھڑا ہے ، کھوجی کہتا ہے کہ اس غار میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) گئے ہیں اور وہ جس کے متعلق یہ باتیں ہو رہی ہیں بڑے اطمینان سے کہتا ہے کہ یہ ہمیں دیکھ کہاں سکتے ہیں ان کی مجال نہیں کہ اندر جھانکیں اور ہمارا پتہ لگا سکیں ۔ کیا ہر شخص کی طاقت ہے کہ وہ ایسے نازک مواقع پر اس قسم کے ایمان اور یقین کا اظہار کر سکے؟ اربوں نہیں کھربوں میں سے کوئی ایسا آدمی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایسا یقین اور وثوق رکھتا ہے۔ پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ حضرت ابوبکر کی اس بات سے یہ شبہ پڑتا ہے کہ وہ یہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ دشمن اندر نہ آجائے تو سوال یہ ہے کہ ہم کب اُن کو ایمان میں محمد رسول اللہ ﷺ کے برابر سمجھتے ہیں۔ بیشک انہوں نے رسول کریم ﷺ کی متابعت کی اور خوب کی مگر پھر بھی ہم اُن کو صلى الله ویسا تو نہیں سمجھتے جیسے رسول کریم ﷺ تھے۔ پس اگر بالفرض یہ کسی کمزوری کا ثبوت ہے تو پھر بھی کیا ہوا آخر ان کا ایمان رسول کریم اللہ جیسا تو نہیں تھا لیکن تاریخی لحاظ سے یہ بات بالکل غلط ﷺ جیسا تو