انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 86

انوار العلوم جلد ۱۷ ۸۶ اسوه حسنه کہ اگر وہ اس غار میں نہیں ہیں تو پھر یقیناً آسمان پر چلے گئے ہیں اور کسی طرف پاؤں کے آثار نہیں ہیں ۔ یہ سن کر سارے کے سارے ہنسنے لگ گئے کہ آج یہ کھوجی کیسی احمقانہ باتیں کر رہا ہے معلوم ہوتا ہے یہ پاگل ہو گیا ہے اور کسی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ جھانک کر اندر دیکھے کہ کیا اندر تو کوئی آدمی چھپا ہوا نہیں ۔ جب تمام کفار غار ثور کے منہ پر پہنچ گئے اُس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھبرائے ۔ چنانچہ اس واقعہ کو اللہ تعالی قرآن کریم میں یوں بیان فرماتا ہے ۔ ا اخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَانْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَة بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى، وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمُ " فرماتا ہے اُس وقت کو یاد کرو جب اُس کی قوم نے اور اُن لوگوں نے جو کافر تھے اُسے مکہ سے نکال دیا ۔ ثاني اثنين اُس وقت وہ صرف دو ساتھی تھے ایک وہ اور ایک ابوبکر ۔ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ دونوں غار میں جا کر چھپ گئے ۔ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا - جب کفار تلاش کرتے غار ثور کے منہ پر پہنچ گئے تو اُس کا ساتھی گھبرا گیا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! یہ لوگ تو آپہنچے ۔ اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ۔ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے یہ لوگ کہاں ہم کو گرفتار کر سکتے ہیں ۔ ۲۵ اب کوئی انسان خواہ وہ ہندو ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو، کسی مذہب وملت کا پیرو ہو ، وہ اس مقام پر غور کرے اور اپنے آپ کو اس جگہ پر کھڑا کر کے سوچے کہ کس قدر بے مثال ایمان اور بے مثال یقین تھا ذات باری پر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں پایا جاتا تھا۔ غار میں بیٹھے ہیں دشمن سر پر آ پہنچا ہے۔ غار کا منہ بھی چھوٹا نہیں دو تین گز چوڑا ہے۔ اُن کے ساتھ وہ ماہر کھو جی ہے جس پر تمام قوم اعتماد رکھتی ہے جو اپنے فن میں پوری مہارت رکھتا ہے۔ جو نقش پا کو خوب اچھی طرح پہچانتا ہے وہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی غار میں ہیں اور اگر یہاں نہیں تو آسمان پر چلے گئے ہیں ۔ اُس وقت جب تمام کفار غار کے سر پر کھڑے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑے