انوارالعلوم (جلد 17) — Page 78
انوار العلوم جلد ۱۷ ۷۸ اسوه حسنه کے متعلق کہے گا کہ اب یہ ہمیں دیکھ سکتا ہے اسے بھی جنت میں لے آؤ۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ اگر ہم اپنے اخلاق کو درست کرنا چاہیں اور اپنی عادات میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا چاہئیں کہ ہر قسم کے رذائل ہم سے دور ہو جا ئیں تو محمد رسول اللہ ﷺ کے نمونہ سے فائدہ اُٹھا کر ہم کسی رنگ میں ترقی کر سکتے ہیں؟ تعلق باللہ کی بنیاد ایمان کامل پر یہ ام یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ روحانی زندگی میں سب سے اہم چیز تعلق باللہ ہے جس کی بنیاد ایمان کامل پر ہوتی ہے اور در حقیقت یہی وہ ایمان ہے جو انسان کی سنجیدگی پر دلالت کیا کرتا ا ہے۔ پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کے دل میں کسی قسم کا ایمان پایا جاتا تھا کیونکہ ویسا ہی ایمان اسلام ہمیں پیدا کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ آجکل لوگ ایمان کا دعوای تو بہت کرتے ہیں مگر ایمان کی حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتی ہے ۔ ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے مخلص لوگ موجود ہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسے نظر آ جاتے ہیں جو ایک وقت ایمان کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن دوسرے وقت مخالفوں کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں ۔ میں دیکھتا ہوں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے ہماری جان آپ پر قربان ہے، ہمارا مال آپ پر قربان ہے، آپ کی غلامی کے بغیر تو زندگی کا کوئی لطف ہی نہیں مگر دوسرے وقت وہی شخص اپنی دیکھی ہوئی باتوں پر نہیں محض سنی سنائی باتوں پر مرتد ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں نے فلاں دوست سے ایسی ایسی بات سُنی ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جس ایمان کا وہ اظہار کیا کرتے تھے وہ کسی بصیرت پر مبنی نہیں تھا ۔ انہوں نے ایک دوسرے سے سلسلہ کی باتیں سُنی اور بیعت کر لی اور پھر ایک خیالی چیز کا نام انہوں نے ایمان رکھ لیا ورنہ یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ ایک شخص کے دل میں ایمان راسخ ہو جائے اور پھر وہ ارتداد کے گڑھے میں گر جائے۔ گزشتہ دنوں میں نے ایک شخص کو اپنی جماعت سے خارج کیا ہے کیونکہ اُس نے بعض ایسی حرکتیں کی تھیں جو احمدیت کی تعلیم کے خلاف تھیں مگر مجھے یاد ہے ۱۹۲۸ء میں جب ٹریبیون میں میری موت کی خبر شائع ہوئی تو یہی شخص اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیکر میرے ملنے کے لئے قادیان