انوارالعلوم (جلد 17) — Page 70
انوار العلوم جلد ۱۷ اسوه حسنه پھر جب محمد رسول اللہ ﷺ کی تصویر میں سے کوئی شخص صرف عیسوی تصویر اُ تارلے تو وہ عیسی بن جاتا ہے، جب ابراہیمی تصویر اتارے تو ابراہیم بن جاتا ہے اور جب سارے انبیاء کے نقوش اور اُن کی تصویر میں اپنے دل پر اُتار لیتا ہے تو وہ ظل محمد بن جاتا ہے اسی لئے اُمتِ محمد یہ میں صرف وہی شخص نبی بن سکتا ہے جو ظل محمد ہو خالی موسیٰ کاظل بننے یا خالی عیسی کا ظل بننے سے کوئی شخص نبی نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ محمد رسول اللہ علہ ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور موسی و عیسی خاص خاص اقوام کی طرف مبعوث ہوئے ۔ پس جو شخص انبیائے سابقین میں سے کسی ایک نبی کی تصویر اُتارتا اور اُس کے نقوش اپنے اندر پیدا کرتا ہے وہ بیشک عیسی ثانی بن سکتا ہے ، موسیٰ ثانی بن سکتا ہے مگر وہ اُمتِ محمد یہ میں نبی نہیں بن سکتا ۔ وہ ایسا ہی ہوگا جیسے حضرت معین الدین صاحب چشتی نے کہا کہ اندر معینی دید و میدم روح القدس من نمی گویم مگر من عیسی ثانی شدم " یعنی جبرئیل لحظه به لحظه معین الدین کے اندر آ کر اپنی روح پھونکتا ہے اس لئے میں تو نہیں کہتا مگر حقیقت یہی ہے کہ میں عیسی ثانی ہو گیا ہوں ۔ پس بے شک کوئی عیسی ثانی بن جائے اس نبوت کیلئے ظل محمد بنا ضروری ہے ہیں کہ میں کوئی حرج نہیں مگر محمد رسول اللہ کے زمانہ میں عیسی ثانی ہونے سے انسان نبی نہیں بن سکتا ۔ اس زمانہ میں انسان نبی تبھی بنتا ہے جب وہ ظل محمد ہو جاتا ہے۔ اسی کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ہر غازه روئے او دمِ شہدا زمانے قتیل تازه بخواست سرت این سعادت چو بود قسمت ما رفته رفته رسید نوبت ما