انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 56

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) اس ٹیکس اور جزیہ کے وصول کرنے کی غرض یہ ہوا کرتی ہے کہ اسی روپیہ کو خرچ کر کے لوگوں کی جان واموال کی حفاظت کی جائے ۔ اس لئے جبکہ وہ ان علاقوں سے واپس جا رہے تھے انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے ان کے ٹیکس انہیں واپس نہ کئے تو یہ ظلم ہوگا ، چنانچہ انہوں نے تمام شہر والوں کو ان کا جزیہ واپس دیدیا اور کہا کہ اب ہم واپس جا رہے ہیں اور چونکہ تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لئے ہم تمہارا ٹیکس تمہیں واپس دیتے ہیں۔ اس واقعہ کا یروشلم کے عیسائیوں پر ایسا اثر ہوا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں عیسائی بادشاہ تھا اور باوجود اس کے کہ وہ اُسے لاکھوں روپیہ بطور نذرانہ د یہ بطور نذرانہ دیا کرتے تھے جس وقت صحار صحابہؓ کا لشکر یروشلم کو چھوڑ نے لگا تو عورتیں اور مرد چیچنیں مار مار کر روتے تھے اور دعائیں کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو پھر اس جگہ واپس لائے ۔ دنیا کی کسی تاریخ میں اس قسم کی مثال ڈھونڈ نے پر بھی نہیں مل سکتی کہ کوئی قوم اُس وقت جبکہ وہ کسی علاقہ کو خالی کر رہی ہو لوگوں کو اُن کے وصول شدہ ٹیکس واپس دے دے بلکہ آجکل تو ایسی حالت میں لوگوں کو اور زیادہ لوٹ لیا جاتا ہے ۔ اسی طرح شر سے روکنے کی مثالیں تو اور بھی بہت سی ہیں مگر میں وہ مثالیں دینا چاہتا ہوں جن کو سب دنیا مانتی ہے حتی کہ مسلمانوں کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ شراب اور جوئے کی ممانعت چنانچہ ایک مثال میں جوئے کی پیش کرتا ہوں اس سے اسلام نے روکا ہے ۔ اسی طرح شراب سے اسلام نے بڑی سختی سے روکا ہے کیونکہ شراب بھی بڑی خرابیوں کا موجب ہوتی اور اس سے انسان کی عقل ماری جاتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کے شر اور فساد کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ وَ يَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُّنْتَهُونَ ٣٩ فرمایا ہم نے شراب اور جوئے سے تمہیں روکا ہے مگر جانتے ہو ہم نے کیوں روکا ہے؟ اس لئے کہ ان کے ذریعہ فساد پیدا ہوتا ہے اور یہ چیزیں ذکرِ الہی اور عبادت کی بجا آوری میں روک بنتی ہیں اس طرح آپس میں عداوت اور بغض پیدا ہوتا ہے۔ آج تمام یورپ اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ شراب بری چیز ہے اور یوروپین مدبّر چاہتے ہیں کہ شراب نوشی روک دیں مگر وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ امریکہ نے شراب کے خلاف بڑا زور مارا مگر اڑھائی پرسنٹ (PERCENT ) شراب کی اس نے بھی اجازت دیدی۔ گویا اس معاملہ میں امریکہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے