انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 52

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) اگر وہ اس حکومت کے ارکان تک پہنچ گئی تو تمہیں نقصان ہوگا ۔ وہ فرمانے لگے مجھے اس کی پروا نہیں ، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہوا ہے کہ اگر کسی کو کوئی سچی بات معلوم ہو اور اُس کی گردن پر تلوار رکھی ہوئی ہو تو اُسے چاہئے کہ تلوار چلنے سے پہلے جلدی سے حق بات اپنے منہ سے نکال دے۔ تو ہدایت کے پہنچانے میں صحابہ نے ایسا کمال دکھایا تھا کہ اس کی نظیر اور کہیں نظر نہیں آتی ۔ مسلمانوں کا اذانیں دینا ، خطبے پڑھانا سب اس کے ماتحت ہے کیونکہ ان ذرائع سے بھی حق کی بات دوسروں تک پہنچتی اور اُن کو ہدایت اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ تے تھے پھر صحابہ دوسروں کو ہدایت دینے میں جس سرگرمی اور انہماک سے کام کیا کرتے اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی ساری عمر دین سکھانے میں لگا دی۔ اور اتنی حدیثیں جمع کر دیں کہ آج اگر ان کو جمع کیا جائے تو پشتاروں کے پشتارے ۳۵ لگ جائیں ۔ آجکل تحریر کا زمانہ ہے اور روایات بڑی آسانی سے محفوظ ہو سکتی ہیں مگر مجھے افسوس ۔ ہے کہ ہماری جماعت کے صحابہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روایات جمع کرنے میں وہ کوشش نہیں کی جو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کے جمع کرنے میں کی تھی ۔ کئی صحابہ ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ وال والسلام کے کئی واقعات ات معلوم ہیں مگر ابھی تک وہ ان کے سینوں میں ہی ہیں اور انہوں نے ظاہر نہیں کئے ، اسی طرح کئی تابعین ہیں جنہوں نے کئی صحابہ سے روایات سنی ہوئی ہیں ، ان کا بھی فرض تھا کہ وہ ایسی تمام روایات کو ضبط تحریر میں لے آتے مگر مجھے افسوس ہے کہ اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی حالانکہ چاہئے تھا کہ وہ رات دن ایسی باتیں سناتے رہتے تا کہ وہ دنیا میں محفوظ رہتیں ۔ صحابہ رسول اکرم نے یہ کام کیا اور ایسی عمدگی سے کیا کہ آج حدیثوں کی سو دو سو جلد یں پائی جاتی ہیں، یہ ان کی ہدایت عام کی سند اور هُدًى لِلْعَلَمِينَ ہونے کا ایک بین ثبوت ہے۔ وہ انصار اور مہاجرین کی باہمی مواخات (۴) مساجد کا چوتھا کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں ، یہ کام بھی انبیاء کی جماعتیں کیا کرتی ہیں ۔ جس طرح مسجد کہتی ہے کہ آجاؤ عبادت کی طرف، یہی حال انبیاء کی جماعتوں کا ہوتا ہے اور وہ سب لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہماری طرف آجاؤ ۔ چنانچہ قرآن کریم میں صحابہؓ کے ایک حصہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا