انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 587

انوار العلوم جلد ۱۶ ممبران پنجاب اسمبلی کو ایک مخلصانہ مشورہ پر پنجاب میں وزارت کا سوال تھا سر جیفرے ڈی مانٹ مورنسی کے گورنر تھے میں شملہ سے آ رہا تھا کہ امرتسر میں مجھے ایک وفد ملا اور اُس نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ گورنر صاحب کو فلاں شخص کے بارہ میں مشورہ دوں کہ اُسے ممبر مقرر نہ کیا جائے ۔ ان صاحب نے مجھ سے الگ خواہش کی تھی کہ میں اُن کے حق میں گورنر صاحب سے کہوں ( سر جیفرے کے مجھ سے بہت اچھے تعلقات تھے ) میں پہلے اُن صاحب کی خواہش رڈ کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا اور یہ لکھنے کا ارادہ رکھتا رکھتا ؟ تھا کہ مجھے ان معاملات سے کیا تعلق ہے لیکن اس وفد کی ملاقات کے بعد جس میں ملک کے سربرآوردہ لوگ شامل تھے میں نے گورنر صاحب کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں لکھا کہ زید یا بکر جو لائق ہوا سے ممبر بنانا چاہئے لیکن کسی شخص کو محض دوسروں کے پروپیگنڈا کی وجہ سے جبکہ اُسے ایک دفعہ اس کام پر مقرر کیا جا چکا ہوا لگ کرنا ہرگز دانائی اور انصاف نہیں ۔ انہوں نے اس خط کے جواب میں جو خط لکھا اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس قسم کا پروپیگنڈا دوسروں کے دلوں پر کیا اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے مجھے لکھا کہ میں آپ کے مشورہ کا خیال رکھونگا ۔ پھر لکھا کہ اس وقت جو کچھ لاہور میں ہورہا ہے سخت مضحکہ انگیز ہے۔ مختلف پارٹیاں بنی ہوئی ہیں اور ان کے نمائندے سٹیشن پر ہجوم کئے رکھتے ہیں جو ممبر باہر سے آتا ہے اُسے دبوچنے اور دوسروں سے ملنے سے پہلے اپنے امیدوار سے ملنے کے لئے شہر کے باہر ہی باہر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ خط ظریفانہ انداز میں تھا مگر اسے پڑھ کر مسلمانوں کی حالت پر شرم کے مارے میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔ مخلصانه مشوره پس اے دوستو ! آپ جو کچھ کریں گے وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہے گا اگر پارٹی بازی اور جنبہ داری کا نمونہ آپ دکھائیں گے تو غیر اقوام کے دوست اور دشمن آپ کے کام کو حیرت اور تحقیر کی نگاہوں سے دیکھیں گے۔ مسلمانوں کے دشمن خوش ہوں گے کہ آج کا مسلمان بھی اسی طرح اسی طرح ہمارا شکار ہے جس طرح گل کا تھا۔ آپ اپنی طاقت کو کھو بیٹھیں گے۔ آپ اپنی اولادوں کی قبریں اپنے ہاتھوں سے کھودنے وا۔ نے والے ہوں گے الْعَيَاذُ بِالله۔ پس میں اخلاص سے آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ اس وقت ذاتی دوستوں کے خیال کو بالائے طاق رکھ دیں اور اس اصل کو پکڑ کر بیٹھ جائیں کہ وزیر اعظم کے انتخاب کے متعلق دیانتداری سے رائے دی جائے ۔ اس کے بعد دوسرے وزراء اور سیکرٹریوں کے انتخاب اُس پر چھوڑ دیں اور جو اپنے آپ کو خود پیش کرے اُس کا ساتھ ہرگز نہ دیں کیونکہ اس کی دوستی ملک اور ملت کی دشمنی ہے۔