انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vi of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page vi

انوار العلوم جلد ۱۶ ۳۔ خدام کو ہر قسم کی قربانیوں کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے ۔ ۴۔ مصائب و تکالیف کے دوران خدا کی رضا کے لئے صبر وتحمل اختیار کرنا۔ ۵۔ ہمیشہ اور ہر حال میں سچائی کو اختیار کرنا اور جھوٹ سے نفرت کرنا۔ ۔ عفوا اور درگز را اور چشم پوشی سے کام لینا۔ ے۔ یورپین کھیلوں کی بجائے دیسی و دیہاتی کھیلوں کو رواج دینا۔ تعارف کتب - مرکزی عہدیداران کا خود پروگراموں میں حصہ لینا اور تمام خدام کے ساتھ ذاتی تعلق اور واقفیت پیدا کرنا۔ ۹۔ اعمال میں نفسانیت کا شائبہ تک نہ ہو بلکہ تمام اعمال محض خدا کی رضا کے لئے ہوں ۔ چنانچہ اس تعلق میں آپ خدام کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:- میں چاہتا ہوں کہ تمہارے اعمال بھی خدا کے لئے ہوں ۔ اُن میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ اُن میں بُزدلی کا کوئی شائبہ نہ ہو اور اُن میں تقویٰ کے خلاف کسی چیز کی آمیزش نہ ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم چیز ہو۔ میں سے ہر شخص اتنا مضبوط ، اتنا بہادر اور اتنا دلیر اور اتنا جری ہو کہ جب تم کسی کو معاف کرو تو لوگ خود بخود کہیں کہ تمہارا عفو خدا کے لئے ہے کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں ۔ ایسی قربانی دلوں کو موہ لیتی ہے ۔“ (۵) عراق کے حالات پر آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن لاہور سے تقریر یہ خطاب حضرت خلیفة المسیح الثانی کی اس تقریر پرمشتمل ہے جو حضور نے عراق کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمائی۔ یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن لاہور سے ۲۵ رمئی ۱۹۴۱ ء کو نشر ہوئی اور اسے دہلی اور لکھنو کے اسٹیشنوں سے بھی نشر کیا گیا۔ اس تقریر کا محرک دراصل دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی اور اٹلی کا عراق پر حملہ آور ہونا تھا ۔ حضور نے اس تقریر میں پہلے تو عراق کی اسلامی تاریخ کے لحاظ سے جو اہمیت ہے نیز تمام اُمتِ مسلمہ کا جو عراق کے ساتھ جذباتی تعلق وابستہ ہے اُس پر روشنی ڈالی ۔ اس کے بعد بتایا که عراق پر حملہ دیگر اسلامی ملکوں حتی کہ ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ لہذا یہ وقت