انوارالعلوم (جلد 16) — Page 568
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام نو طلبگار ہو ، اگر تم خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی جائدادوں کا ۱۰ سے ۱۳ حصہ اسلام اور مصالح اسلام کی اشاعت کے لئے دے دو اس طرح ساری دنیا کی جائدادیں قومی فنڈ میں آ جائیں گی اور بغیر کسی قسم کے جبر اور لڑائی کے اسلامی مرکز صرف ایک نسل میں تمام دنیا کی جائدادوں کے ۱۱ سے ۱/۳ حصہ کا مالک بن جائے گا اور اس قومی فنڈ سے تمام غرباء کی خبر گیری کی جا سکے گی ۔ چند نسلوں میں ہی تمام احمد یوں کی پھر یہ یاد رکھو کہ وصیت صرف پہلی نسل کے لئے نہیں ہے بلکہ دوسری نسل کے لئے بھی جائدادیں نظام احمدیت کے قبضہ میں ہے اور اس سے بھی انہی قربانیوں کا مطالبہ ہے اور چونکہ وصیت سے دنیا کے سامنے جنت پیش کی جا رہی ہے اگلی نسل اس کو لینے سے کس طرح انکار کرے گی پس دوسری نسل پھر اپنی خوشی سے بقیہ جائداد کا ۱۱۰ سے ۱۱۳ حصہ قومی ضرورتوں کے لئے دے دے گی اور پھر تیسری اور پھر چوتھی نسل بھی ایسا ہی کرے گی اور اس طرح چند نسلوں میں ہی احمد یوں کی جائدادیں نظام احمدیت کے قبضہ میں آ جائیں گی ۔ فرض کر وسب دنیا احمدی ہو جائے تو اس کا نتیجہ جانتے ہو کیا نکلے گا یہی کہ چند نسلوں میں اپنی خوشی سے ساری دنیا اپنی جائدادیں قومی کاموں کے لئے دے دے گی اور اس کی انفرادیت بھی تباہ نہ ہو گی ، عائلی نظام بھی تباہ نہ ہوگا اور پھر لوگ اپنے لئے اور اپنی اولادوں کے لئے اور دولت پیدا کریں گے اور پھر اپنی خوشی سے اس کا ۱۰ سے ۱/۳ حصہ قومی ضرورتوں کے لئے دے دیں گے پھر یہ سارا مال چند نسلوں میں قومی فنڈ میں منتقل ہو جائے گا اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا ۔ مثال کے طور پر یوں سمجھ لو کہ اگر کسی شخص کے پاس سو روپے ہوں اور وہ پانچویں حصہ کی وصیت کرے تو ہیں روپے قومی فنڈ میں آ جائیں گے اور اسی روپے اس کے پاس رہیں گے جو اس کے لڑکے کو ملیں گے۔ پھر مثلاً اس کا لڑکا اگر اسی روپے کے ۱۵ حصہ کی وصیت کر دے گا تو سولہ روپے اور قومی فنڈ میں آ جائیں گے۔ گویا ۳۶ فیصدی قومی فنڈ میں آ جائے گا اور ۶۴ فیصدی اس کے پاس رہ جائے گا ۔ پھر مثلاً اس کا لڑکا اس ۶۴ فیصدی کے پانچویں حصہ کی وصیت کرے گا تو اندازاً بارہ روپے اور قومی فنڈ میں آ جائیں گے گویا اڑتالیس فیصدی کی مالک حکومت ہو جائے گی اور باون فیصدی اس خاندان کے پاس رہ جائے گا اس کے بعد اس کا لڑکا مثلاً باون روپوں کے ۹۵