انوارالعلوم (جلد 16) — Page 564
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام نو غرباء کی تکلیف دور کرنے کے لئے میں اوپر بتا چکا ہوں کہ اسلامی سکیم کے اہم اصول یہ ہیں :- اسلامی سیکیم کیم اور اس کے اہم اصول اول: سب انسانوں کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے ۔ دوم: مگر اس کام کو پورا کرتے وقت انفرادیت اور عائلی زندگی کے لطیف جذبات کو تباہ نہ ہونے دیا جائے ۔ تیسرے: یہ کام مالداروں سے طوعی طور پر لیا جائے اور جبر سے کام نہ لیا جائے ۔ چوتھے : یہ نظام ملکی نہ ہو بلکہ بین الاقوامی ہو۔ آج ج کل جس قدر تحریکات جاری ہیں وہ سب کی سب ملکی ہیں مگر اسلام نے وہ تحریک پیش کی ہے جو ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے ۔ اسلامی تعلیم کی ساری خوبی ان چاروں اصول میں مرکوز ہے۔ اگر یہ چاروں اصول کسی تحریک میں پائے جاتے ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تحریک سب سے بہتر اور سب تحریکات سے زیادہ مکمل ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ۱۹۰۵ ء اب میں بتا تا ہو کہ اللہ تعالی کے حکم سے ان چاروں مقاصد کو اس زمانہ کے میں دنیا سے دُکھ کو دور کرنے والے نئے نظام کی بنیاد ما مور، نائب رسول اللہ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے کس طرح پورا کیا اور کس طرح اسلامی تعلیم کے عین مطابق دنیا کے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھ دی ۔ یہ بالشوزم، سوشلزم اور نیشنل سوشلزم کی تحریکیں سب جنگ کے بعد کی پیدائش ہیں ۔ ہٹلر جنگ کے بعد کی پیدائش ہے ، مسولینی ۶ سے جنگ کے بعد کی پیدائش ہے اور سٹالن جنگ کے بعد کی پیدائش ہے ۔ غرض یہ ساری تحریکیں جو دنیا میں ایک نیا نظام قائم کرنے کی دعویدار ہیں ۔ ۱۹۱۹ ء اور ۱۹۲۱ کے گرد چکر لگا رہی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے مامور نے نئے نظام کی بنیا د ۱۹۰۵ء میں رکھ دی تھی اور وہ ” الوصیت کے ذریعہ رکھی تھی ۔ قرآن مجید میں مختلف ضرورتوں کے وقت قرآن کریم نے اصولی طور پر فرمایا تھا أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا طوعی قربانیاں کرنے کی طرف اشاره بِأَيْدِيَكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۹۱