انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 562

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام نو مقابلہ اس وقت اس قدر نہ تھا جو اب ہے ۔ مقابل کی حکومتیں اس طرح ہمسایہ ملکوں کی دولت کو با قاعدہ نہ لوٹتی تھیں جیسا کہ اب ٹوٹتی ہیں اس لئے ہم مانتے ہیں کہ وہ انتظام آج کارگر نہیں ہو سکتا لیکن اصولی لحاظ سے وہ تعلیم آج بھی کارگر ہے ۔ اس وقت بغیر اس کے کہ کوئی نیا طریق ایجاد کیا جاتا اسی آمدن سے جو مقررہ ٹیکسوں یا طوعی چندوں سے حاصل ہوتی تھی گزارہ چلایا جا سکتا تھا پس اس وقت اسے کافی سمجھا گیا مگر وہ انتظام آج کافی نہیں ہو سکتا ۔ ۔ آجکل کا زمانہ منتظم کا زمانہ منظم زمانہ ہے اس وقت دنیا کی بے چینی کو دیکھ کر حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کی بیشتر دولت ان کے ہاتھ میں ہو اور اگر مذکورہ بالا تحریکیں کامیاب ہوئیں یعنی ان میں سے کوئی ایک کامیاب ہوئی تو لازماً افراد کے ہاتھ میں روپیہ کم رہ جائے گا اور حکومتوں کے ہاتھ میں زیادہ چلا جائے گا ۔ بالشوزم کامیاب ہو تب بھی ا یاب ہو تب بھی اور شوشلزم کامیاب ہو تب بھی نتیجہ یہی ہو گا کہ افراد کے ہاتھ میں روپیہ کم رہ جائے گا اور ملک کی بیشتر دولت پر حکومت کا قبضہ ہو جائے گا لیکن علاوہ مذکورہ بالا نقائص کے جو اوپر بیان ہو چکے ہیں یہ نقصان بھی ہو گا کہ گو بعض ممالک زیادہ امن میں آ جائیں گے مگر بعض دوسرے ممالک زیادہ دُکھ میں پڑ جائیں گے۔ موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے پیش نظر غرباء کو اس نظام کے مقابلہ میں اسلامی تعلیم کو معتین صورت دینے کے لئے جو جامہ رسول کریم آرام بہم پہنچانے کے لئے ایک نئے نظام کی ضرورت صلی اللہ علیہ وسلم کے و آ زمانہ کے لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا وہ آج یقیناً کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ اب حالات مختلف ہیں ۔ اسی طرح بعد میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ نے ان احکام کو جو صورت دی تھی وہ آج کامیاب نہیں ہو سکتی پس ضرورت ہے کہ اس موجودہ دور میں اسلامی تعلیم کا نفاذ ایسی صورت میں کیا جائے کہ وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو اِن دُنیوی تحریکوں میں ہیں اور اس قدر روپیہ بھی اسلامی نظام کے ہاتھ میں آ جائے جو موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مساوات کو قائم رکھنے اور سب لوگوں کی حاجات کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ خلفاء نے اپنے زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اسلام کے احکام کی تعبیر کی جیسے میں نے بتایا ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں با قاعدہ مردم شماری ہوتی تھی ہر شخص کا نام رجسٹروں میں درج ہوتا تھا اور اسلامی بیت المال اس امر کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ ہر شخص کی جائز ضروریات ۸۹