انوارالعلوم (جلد 16) — Page 557
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو زائد مال لینے کے لئے جبر سے ہرگز کام نہ لو بلکہ ترغیب و تحریص سے کام لو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اُمراء کے دلوں میں غریبوں کی محبت پیدا ہو گی اور غریبوں کے دلوں میں امیروں کی محبت پیدا ہو گی ۔ اگر ایک شخص سے جبراً حکومت مال لے لے تو نہ اس کے دل میں دوسروں کی محبت پیدا ہو گی اور نہ دوسروں کے دل میں اُس کی محبت پیدا ہو گی لیکن اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنا مال لوگوں کی بھلائی کے لئے دے دے تو اس کے دل میں بھی دوسروں کی محبت پیدا ہو گی اور دوسروں کے دلوں میں بھی اس کی محبت پیدا ہو گی اس طرح انسانیت آپس میں زیادہ سے زیادہ مرتبط ہوتی چلی جائے گی ۔ ہے کہ جب ہے انفرادی جد و جہد کو قائم رکھنے کا فائدہ پھر اس کا ایک اور فائدہ یہ مجھے اِنفرادی جد وجہد قائم رہے گی تو ہر شخص پوری محنت سے کام لے کر روپیہ کمانے کی کوشش کرے گا۔ ڈاکٹر اپنے مطب کو چلائے گا ، انجینئر اپنے فن میں کمال دکھلائے گا ، تاجر کا رخانوں کو چلائیں گے اور اس طرح دماغ ترقی کرتا چلا جائے گا اور جب وہ اپنے پاس روپیہ جمع کر لیں گے تو پھر ترغیب و تحریص کے ذریعہ ان کا مال ان سے لے لیا جائے گا ۔ گویا بیک وقت دونوں فائدے حاصل ہو جائیں گے دماغ کی بھی ترقی ہو جائے گی اور روپیہ بھی مل جائے گا ۔ بالشویک تحریک میں یہ نقص ہے کہ اس کے نتیجہ میں دماغی قابلیتیں بالکل مردہ ہو جاتی ہیں اور جو کچھ روپیہ حاصل ہوتا ہے اس کے دیتے وقت بھی امراء کے دلوں میں غرباء کی کوئی محبت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم پر جبر اور ظلم کر کے یہ روپیہ لیا جا رہا ہے لیکن اگر ڈاکٹر کو کہا جائے کہ جاؤ اور خوب کماؤ ، وکیل کو کہا جائے کہ مقدمات لڑو اور خوب فیس وصول کرو، انجینئر کو کہا جائے کہ جاؤ اور انجینئر نگ کے فن میں کمال پیدا کر کے ہزاروں روپیہ کماؤ اور پھر جب وہ روپیہ کما چکیں تو انہیں اس بات کی تحریص دلائی جائے کہ وہ اپنا رو پید اپنے غریب بھائیوں کی ضرورتوں پر بھی خرچ کریں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خوشی سے ہزاروں روپیہ دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے ان کی اُمنگیں بھی قائم رہیں گی اور انہیں ظلم کا احساس بھی نہ ہو گا بلکہ وہ د وہ دیتے وقت خوش ہوں گے کہ ان کا رو پیدان کے غریب بھائیوں کے کام آنے لگا ہے پس ان کا زائد مال اگر ترغیب و تحریص سے لیا جائے تو عدل و انصاف بھی قائم ہوگا اور باہمی محبت بڑھانے کا بھی یہ ایک یقینی ذریعہ ہو جائے گا ۔ ۸۴۴