انوارالعلوم (جلد 16) — Page 546
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو رہنے دیتا بلکہ <mark>اس</mark>ے تقسیم کر دیتا ہے اور دوسری طرف روپیہ جمع کرنے سے منع کر رہا ہے مگر <mark>اس</mark> سے غربت کا علاج تو نہیں ہو جاتا۔<mark>اس</mark> سوال کا جواب یہ ہے کہ <mark>اس</mark>لام نے ایک چوتھا حکم غرباء کے حقوق کی ادائیگی کے لئے زکوۃ اور صدقہ کا دیا ہے یعنی جس قدر جائداد کسی انسان کے پ<mark>اس</mark> سونے اور چاندی کے سکوں یا اموال تجارت کی قسم سے ہوا اور <mark>اس</mark> پر ایک سال گزر چکا ہو تو ضروری ہے کہ حکومت اُس سے اڑھائی فیصدی سالا نہ ٹیکس وصول کر کے خزانہ شاہی میں داخل کرے اور <mark>اس</mark>ے ملک کے غرباء پر خرچ کیا جائے۔یہ ٹیکس جسے زکوۃ کہا جاتا ہے صرف آمد پر نہیں بلکہ سرمایہ اور نفع سب کو ملا کر <mark>اس</mark> پر لگایا جاتا ہے اور <mark>اس</mark> طرح اڑھائی فیصدی بعض دفعہ نفع کا پچ<mark>اس</mark> فیصدی بن جاتا ہے اور بعض دفعہ <mark>اس</mark> سے بھی زیادہ۔<mark>اس</mark> حکم کے مطابق جس شخص کے گھر میں سو روپیہ جمع ہو گا <mark>اس</mark>ے سال گزرنے کے بعد اڑھائی روپیہ زکوۃ دینی پڑے گی جس پر لازماً اُسے فکر پیدا ہو گا کہ اگر یہ روپیہ <mark>اس</mark>ی طرح جمع رہا تو تھوڑے ہی عرصہ میں تمام روپیہ ٹیکس کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گا چنانچہ وہ فور روپیہ کو تجارت پر لگا دے گا تا کہ یہ کمی پوری ہو جائے اور جب وہ روپیہ کو تجارت پر لگائے گا تو روپیہ چکر کھانے لگے گا اور <mark>اس</mark> طرح علاوہ <mark>اس</mark> کے کہ <mark>اس</mark> کے روپیہ میں سے اڑھائی فیصدی غرباء کو ملے گا روپیہ کے بند ر کھنے سے جو نقصان ہو سکتا تھا وہ بھی ملک اور قوم کو نہیں پہنچے گا۔آجکل خصوصیت سے لوگوں میں یہ مرض پیدا ہو رہا ہے کہ وہ سونا اور چاندی کو جمع کر کے رکھ رہے ہیں۔غرباء کو کئی قسم کی ضرورتیں ہوتی ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ سونا آج کل گراں ہے وہ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کا یہی طریق سوچتے ہیں کہ زیور فروخت کر دیا جائے چنانچہ کوئی انگوٹھی فروخت کر دیتا ہے کوئی کان کی بالیاں فروخت کر دیتا ہے، کوئی گلو بند فروخت کر دیتا ہے ، کوئی پازیب فروخت کر دیتا ہے ، مگر جانتے ہو یہ سب سونا اور چاندی کہاں جمع ہو رہا ہے یہ سب بنیوں کے گھر میں جا رہا ہے۔اور بعض لوگ تو <mark>اس</mark> ڈر کے مارے سونا چاندی جمع کر رہے ہیں کہ اگر جاپان آ گیا تو نوٹ ناکارہ ہو جائیں گے وہ یہ نہیں جانتے کہ جاپان آیا تو سب سے پہلے وہ سونے اور چاندی کو ہی ٹوٹے گا مگر وہ سمجھتے ہیں سونا تو ان کے گھروں میں ہی رہے گا اور جن کے پ<mark>اس</mark> نوٹ ہوں گے ان کے پ<mark>اس</mark> کچھ نہیں رہے گا۔<mark>اس</mark>ی وجہ سے سونا روز بروز مہنگا ہوتا چلا جاتا ہے۔چالیس روپیہ سے <mark>اس</mark> نے بڑھنا شروع کیا تھا اور ستر روپیہ تک پہنچ گیا ہے اور میں نے بنیوں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سونے کی قیمت سو روپیہ تک لے جانی ہے۔مگر <mark>اس</mark>لام کہتا ہے تم اول تو روپیہ جمع ۷۳