انوارالعلوم (جلد 16) — Page 536
۶۳ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ہماری وہی غرض ہے جو انگریزوں کی ہندوستان میں تھی ۔ وہ کہتے ہیں ہندوستان پر ہم اس لئے حکومت کر رہے ہیں کہ وہاں کے جاہلوں کو پڑھائیں اور اسے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیں۔ پھر کیا ہم میں انسانیت نہیں پائی جاتی کہ ہم دوسروں کی خدمت نہ کریں اور ان کے ملک پر قبضہ کر کے ان کی جہالت کو دور نہ کریں ۔ پس یہ بھی ایک دلیل ہے جو بعض لوگوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے ۔ دوسرا نظریہ دوسرے بعض کہتے ہیں کہ وفائق ہوا سے فائق ہی رہنا چاہئے یعنی مال طور پر جس کا غلبہ ہوا اور جو اپنے زور بازو سے کماتا ہو اس میں دخل نہیں دینا چاہئے ۔ یہ تیسرا نظریہ اسی طرح ایک او نظر یہ ہ پیش کیا جاتا ہے کہ نسلی وقت بھی ایک حقیقی فوقیت ی ہے اس کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ عقیدہ و یہ عقیدہ ویسا ہی ہے جو ہندو مذہب میں پایا جاتا ہے کہ شو د رشو د ر ہی رہے گا ویش ویش ہی رہے گا کھتری کھتری ہی رہے گا اور برہمن برہمن ہی رہے گا۔ بقول ان کے یہ امتیاز جونسلی طور پر لوگوں میں پایا جاتا ہے مٹ نہیں سکتا ۔ جمہور کو حکومت کرنے کا چوتھا نظریہ ایک اور قانون یہ بیان کیا جاتا ہے کہ دنیا میں صرف جمہور کا حق ہے اس لئے اقلیتوں پر جو چاہو ظلم کرو۔ اس نظریہ کے ماتحت یہ لوگ اقلیت کو تباہ کر دیتے ہیں اور تھوڑے آدمیوں کی آواز کو سنتے ہی نہیں ۔ پانچواں نظریہ اسی طرح ان کا ایک یہ بھی قانون ہے کہ جو گری پڑی چیز ملے لے لو۔ ہم بچپن میں جب آپس میں کھیلا کرتے اور ہمیں کوئی گری پڑی چیز مل جاتی تو ہم یہ کہتے ہوئے اُسے اُٹھا لیتے کہ کبھی چیز خدا دی نہ دھیلے دی نہ پادی“ اور سمجھتے کہ یہ کوئی ایسا منتر ہے جس کو پڑھ کر گری پڑی چیز کو اُٹھا لینا بالکل جائز ہو جاتا ہے مگر وہ چیز جو بچوں کو کھیلتے ہوئے مل جاتی ہے کوئی قابل ذکر نہیں ہوتی ۔ کبھی انہیں مکئی یا چنے کا دانہ زمین پر پڑا ہوا مل جاتا ہے، کبھی بٹن یا ایسی ہی کوئی چیز مل جاتی ہے اور وہ اُسے اُٹھا لیتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایک دفعہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! گری پڑی چیز کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا مثلاً ؟ اُس نے کہا مثلاً جنگل میں مجھے کوئی بکری مل جائے تو آیا میں اسے لے لوں یا نہ لوں؟ آپ نے فرمایا جنگل میں اگر تجھے کوئی بکری مل جائے تو تُو اِدھر اُدھر آواز دے کہ یہ کس کی بکری ہے اور اگر آواز دینے کے باوجود تجھے اس کا مالک نہ