انوارالعلوم (جلد 16) — Page 37
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) سے آپ نے فرمایا ، دیکھو پہلی قو میں یعنی یہود اور نصاریٰ اِس لئے تباہ ہوئیں کہ ؟ وئیں کہ جب اُن میں کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا نہ دیتے ، جب کوئی چھوٹا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دیتے ۔ مگر اسلام میں اس قسم کا کوئی امتیاز نہیں اور ہر شخص جو بجرم کرے گا اُسے سزا دی جائیگی خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا ۔ ۱۵ تمدنی معاملات میں مساوات کی اہمیت پھر اسلام نے مساوات کو مدنی پہلو میں اتنی عظمت دی ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیا مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے تھے کہ کوئی شخص آپ کے پاس و س دودھ بطور تحفہ لایا۔ آپؐ نے کچھ دوده اور پھر خیال آیا کہ کچھ دودھ حضرت ابو بکر کو دیدوں کیونکہ وہ بھی اُس وقت مجلس میں موجود تھے اور پھر آپ کے رشتہ دار بھی تھے ۔ مگر آپ نے دیکھا کہ وہ دائیں طرف نہیں بیٹھے بلکہ بائیں طرف بیٹھے ہیں اور دائیں طرف ایک نو جوان بیٹھا ہے ۔ اسلام نے چونکہ دائیں طرف والے کا حق مقدم رکھا ہے اس لئے آپ نے اُس لڑکے سے کہا کہ اگر تم اجازت دو تو میں یہ دودھ ابو بکر کو دیدوں ؟ اس لڑکے نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! یہ میرا حق ہے یا آپ یونہی مجھ سے پوچھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ بات یہ ہے کہ دائیں طرف بیٹھنے کی وجہ سے اس دودھ پر تمہارا حق ہی ہے مگر میں تم سے اجازت چاہتا ہوں کہ اگر کہو تو ابو کہ اگر کہو تو ابو بکر کو دودھ دے دوں ۔ اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ! جب یہ میرا حق ہے تو پھر آپ کے تبرک کو کوئی کس طرح چھوڑ سکتا ہے اور یہ کہہ کر اُس نے دودھ کا پیالہ آپ سے لیکر پینا شروع کر دیا ۔ 14 مرض الموت میں رسول کریم صلی اللہعلیہ وسلم کا ارشاد خود رسول کریم صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح اسلام میں مساوات کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو صحابہؓ کو آپ نے بار بار خدا تعالیٰ کی وحی سے خبر دی اور بتایا کہ اب میرا زمانہ وفات نزدیک ہے ۔ اُس وقت ان پر ایک عجیب رقت طاری تھی اور دلوں میں سوز و گداز پیدا تھا۔ ایک دن آپ مسجد میں ہوئے تھے کہ آپ نے صحابہ کو نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا ۔ اے لوگو! اسلامی قانون کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ، اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو مجھ سے بدلہ لے لو۔ اور بیٹھے : - فرمایا کہ اس معاملہ میں اگر دنیا میں مجھے سزا مل جائے تو میں اسے زیادہ پسند کروں گا بہ نسبت اس کے کہ اس غلطی کے بارہ میں خدا تعالیٰ مجھ سے جواب طلبی کرے۔ جب آپ نے یہ فرمایا تو ایک